خلاصہ
- لندن: (دنیا نیوز) برطانیہ کی سیکرٹری خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا ہے کہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے عمل کی حمایت کیلئے 40 سے زائد ممالک متحد ہو چکے ہیں۔
نشریاتی اداروں کو دیے گئے انٹرویو میں ایویٹ کوپر نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کیلئے ہر ممکن سفارتی، معاشی اور مشترکہ اقدام لینے کیلئے پُرعزم ہیںم، ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کر دینے سے عالمی سپلائی چینز اور توانائی کی قیمتوں پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔
ایویٹ کوپر جہازوں پر ایران کے ’غیر ذمہ دارانہ‘ حملوں کی بار بار مذمت کرتی آئی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ایران عالمی معیشت کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہا ہے، یہ حملے برطانیہ میں مورگیج کی شرح اور پیٹرول کی قیمتوں کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں جیٹ فیول، افریقہ کو کھاد کی فراہمی اور ایشیا کو گیس کی ترسیل بھی اس سے متاثر ہو رہی ہے۔
برطانوی سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا کام برطانیہ کے قومی مفاد میں فیصلے کرنا ہے اور یہ کہ برطانیہ میں مہنگائی کے بحران سے نمٹنے کیلئے سب سے بہتر بات یہی ہوگی کہ یہ تنازع ختم ہو جائے۔
سیکرٹری خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر کام کرنا بھی شامل ہو سکتا ہے تاکہ جو جہاز پھنس گئے ہیں وہ دوبارہ روانہ ہو سکیں۔
اقوامٰ متحدہ کے مطابق اس وقت کم از کم 2 ہزار جہاز جلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں۔