روسی اور ایرانی صدور میں امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد تین بار ٹیلیفونک رابطہ

روسی اور ایرانی صدور میں امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد تین بار ٹیلیفونک رابطہ

ماسکو میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات بین الاقوامی تنظیموں کے دائرہ کار میں بھی جاری ہیں، جبکہ دونوں صدور کے درمیان روابط انتہائی مضبوط ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ روس اور ایران کے وزرائے خارجہ سرگئی لاوروف اور عباس عراقچی کے درمیان بھی مؤثر ورکنگ ریلیشن شپ موجود ہے، جو دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔

ایرانی سفیر کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا آغاز کیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

7 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہونے کے باوجود کسی طویل المدتی معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔

ایرانی حکام کے مطابق 40 روزہ جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مجموعی طور پر 3 ہزار 375 ایرانی شہری جاں بحق ہوئے۔

21 اپریل کو امریکی صدر نے جنگ بندی میں توسیع کا عندیہ دیا، تاہم ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تہران یکطرفہ اعلان کردہ اس توسیع کو تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور اپنے قومی مفادات کو ترجیح دے گا۔