خلاصہ
- واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اگر جوہری ہتھیار ہوں تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔
بال روم کنسٹرکشن سائٹ کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ امریکا کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنا پڑے گا یا نہیں، تاہم ایران کے پاس اب بھی محدود جوابی کارروائی کی صلاحیت موجود ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، امریکا ایران پر نئے حملے شروع کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا اور حملوں سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل بحری جہاز میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں سے لیس حالت میں تیار تھے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی تھی، ایران گزشتہ 47 برس سے آبنائے ہرمز کو عسکری قوت کے طور پر استعمال کرتا آ رہا ہے، انہوں نے ملکی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں معاشرے میں مذہب کی اہمیت جرائم میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنے کیلئے بے تاب ہے اور اگر سفارتی پیش رفت نہ ہوئی تو آنے والے دنوں میں ایران کے خلاف نئے امریکی حملوں کا امکان موجود ہے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کیوبا کے حوالے سے کہا کہ وہ وہاں رجیم چینج کے معاملے سے متعلق زیادہ معلومات نہیں رکھتے، تاہم ان کے مطابق کیوبا کو مدد کی ضرورت ہے۔