خلاصہ
- دوحہ: (دنیا نیوز) سفارت کاری میں جب تک تمام معاملات طے نہ پا جائیں کسی چیز کو حتمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
الجزیرہ ٹی وی نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ چند روز کے دوران انتہائی اہم اور حساس سفارت کاری جاری تھی، زیر بحث مفاہمتی یادداشت تین ہفتوں تک مذاکرات کا حصہ رہی، ابتدا میں یہ 14 نکاتی منصوبہ تھا جسے مختصر کرکے تحریری مسودے کی شکل دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس کی زبان اور شرائط پر فریقین کے درمیان مسلسل مشاورت اور ردوبدل جاری رہا، یہ سفارتی کوشش کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ متعدد ممالک کے مشترکہ کردار کا نتیجہ ہے، پاکستان، قطر، سعودی عرب، مصر، ترکیہ اس عمل میں شامل رہے۔
جاری کردہ میڈیا رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سفارتی عمل کی ابتدائی قیادت پاکستان نے کی جس کے بعد بھی پاکستان اس میں متحرک رہا، قطر اور دیگر ملکوں نے بھی اس عمل کو آگے بڑھایا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب بھی اس بات کی تصدیق نہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر نے معاہدے کی حتمی منظوری دے دی ہے، صورتحال اس وقت واضح ہوگی جب تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔