امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پا گئی، اتوار کو دستخط کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت طے پا گئی، اتوار کو دستخط کا امکان

امریکی جریدے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پیر سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جی سیون سمٹ کا آغاز ہورہا ہے اور اس اجلاس سے پہلے امریکا اور ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرسکتے ہیں۔

امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ابتدائی مفاہمت طے پاگئی، آبنائے ہرمز فوری کھولنے اور 60 روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

پابندیوں میں نرمی ایران کے عملی اقدام سے مشروط ہوگی جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جنگ بندی کے دوران جاری رہیں گے۔ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہوگا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں پابندیوں کے خاتمے کی شرط شامل ہے، ایران کے اطراف سے امریکی فوجیوں کا انخلا ہوگا، خلیج عمان میں ایران کی ناکہ بندی ختم ہوگی، جبکہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی تیل پر عائد پابندیاں اٹھالی جائیں گی، ایران کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں گے، حتمی مذاکرات جوہری پروگرام اور معاشی ایشوز پر ہونگے، ایران کے میزائل پروگرام پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

اِس سے پہلے صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی دستاویزات آخری مرحلے میں ہیں، رواں ہفتے کے آخر تک ڈیل پردستخط ہوجائیں گے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے بعد ایک ہفتے میں آبنائے ہرمزکھول دی جائے گی، یقین ہےایرانی سپریم لیڈر معاہدے کی منظوری دے چکے ہیں، تفصیلات جلد سامنے آجائیں گے،باضابطہ ڈیل تک ایران کی بحری ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا سے معاہدے پر ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا،سفارتی رابطے جاری ہے مگر سمجھوتہ طے نہیں پایا۔

وزارتِ خارجہ کےترجمان اسماعیل بقائی نےکہاہےکہ ہم اس معاملے پر کسی حتمی نتیجے پرنہیں پہنچے ہیں، متن کے بڑےحصوں کو حتمی شکل دےدی گئی ہے،لیکن ایران اپنی ریڈ لائنز پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔