امریکی بحریہ کے طویل مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں کی خودکشی کی کوشش

امریکی بحریہ کے طویل مشن کے دوران آٹھ اہلکاروں کی خودکشی کی کوشش

یہ انکشاف نیویارک سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کرسٹن گلیبرانڈ کو لکھے گئے ایک خط میں کیا گیا، جس میں انہوں نے جہاز پر تعینات اہلکاروں کی فلاح و بہبود سے متعلق سوالات اٹھائے تھے۔

اہلکاروں کے اہل خانہ نے پہلے ہی طویل مشن، خراب حالات اور ذہنی دباؤ کے باعث عملے کی ذہنی صحت بگڑنے پر تشویش کا اظہار کیا تھا، ابراہم لنکن طیارہ بردار جہاز گذشتہ نومبر سے تعینات تھا اور ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود رہا۔ اب یہ جہاز واپس امریکا لوٹ رہا ہے۔

ہنگ کاؤ نے اپنے خط میں کہا کہ جہاز پر عملے کی روحانی اور نفسیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے پانچ فوجی مذہبی پیشوا (چیپلنز) اور متعدد ذہنی صحت کے ماہرین موجود تھے، خودکشی کی کوشش کرنے والے آٹھ افراد میں صرف ابراہم لنکن کا عملہ ہی نہیں بلکہ فضائی ونگ، سٹرائیک گروپ، تباہ کن جنگی جہازوں (ڈسٹرائرز) اور دیگر معاون یونٹوں کے اہلکار بھی شامل تھے۔

اگرچہ امریکی بحریہ نے ماضی میں رسد سے متعلق بعض مسائل تسلیم کیے تھے، تاہم اس نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جہاز پر ذہنی صحت کا کوئی بڑا بحران پیدا ہو گیا تھا، جہاز پر تقریباً پانچ ہزار اہلکار تعینات تھے۔

کاؤ نے یہ بھی کہا کہ ٹوٹے ہوئے پلمبنگ نظام اور تازہ خوراک کی شدید قلت سے متعلق اطلاعات بڑھا چڑھا کر پیش کی گئیں، البتہ انہوں نے بعض مقامات پر پائپ لائن خرابیوں، سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے والے پلانٹس میں مسائل اور کچھ عرصے کے لیے خوراک کے محدود انتخاب کا اعتراف کیا۔

دوسری جانب سینیٹر گلیبرانڈ نے ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ ردعمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی اہلکاروں کے ساتھ ایسا سلوک ’قطعی ناقابل قبول ہے، جن مسائل کو ’جعلی خبر‘ قرار دیا جا رہا تھا، وہ درحقیقت خدمت انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے سنگین اور مسلسل بگڑتے ہوئے حالات تھے۔

ابراہم لنکن نومبر میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا۔ اس کی تعیناتی مئی میں ختم ہونا تھی، لیکن مشن میں بار بار توسیع کی گئی، اگست میں یو ایس ایس جارج واشنگٹن کو نو ماہ کی طویل تعیناتی مکمل کرنے والے ابراہم لنکن کی جگہ مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ اور میرین کور میں خودکشی اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ جنوری 2025 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں 956 بحری اہلکاروں کا جائزہ لیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ بحری جہازوں پر تعینات اہلکار امریکی فوج کی دیگر شاخوں کے مقابلے میں شدید نفسیاتی دباؤ کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق ناقص رہائشی حالات، مسلسل شور، سخت ڈیوٹی شیڈول اور مناسب آرام و نیند کی کمی ایسے عوامل ہیں جو ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔