خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے کہا ہے کہ سائبیرین لیبارٹری کے حالیہ واقعے سے متعلق مغربی ممالک اور ذرائع ابلاغ کی جانب سے پھیلائی جانے والی اطلاعات کا مقصد صحت عامہ کا تحفظ نہیں بلکہ روس کے خلاف سیاسی دباؤ اور منفی بیانیہ پیدا کرنا ہے۔
ماسکو میں گلوبل ڈیجیٹل فورم کے دوران نمائندہ دنیا نیوز شاہد گھمن نے ماریہ زخارووا سے سوال کیا کہ روس سائبیرین لیبارٹری کے واقعے سے متعلق جعلی خبروں کا مقابلہ کرتے ہوئے جائز اور ذمہ دار صحافت کا تحفظ کیسے کر رہا ہے؟
سوال کے جواب میں ماریہ زخارووا نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں وائرس اور بیماریوں سے متعلق واقعات پیش آتے رہتے ہیں، لیکن جب ایسا کوئی واقعہ روس میں پیش آتا ہے تو بعض مغربی ممالک اچانک غیرمعمولی دلچسپی ظاہر کرنا شروع کردیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کو پہلے اپنے شہریوں کو درپیش صحت عامہ کے سنگین مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ امریکا میں خسرے سمیت مختلف بیماریوں، منشیات اور ایڈز کے باعث ہزاروں افراد متاثر ہورہے ہیں، لیکن ان مسائل کو وہ توجہ نہیں دی جاتی جو روس سے متعلق کسی واقعے کو دی جاتی ہے۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ اس قسم کی مہم کا مقصد ممکنہ طبی خطرات کی روک تھام، مشترکہ حل تلاش کرنا یا لوگوں کی صحت کا تحفظ نہیں بلکہ پروپیگنڈا کرنا ہے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ یہ محض پروپیگنڈا نہیں بلکہ انتہائی خطرناک پروپیگنڈا ہے، جو حقیقت میں لوگوں کی جانیں بھی لے سکتا ہے۔
انہوں نے کووڈ 19 کی وبا کے دوران روسی ویکسین سپوتنک وی کے ساتھ مغربی ممالک کے رویے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ روس کورونا وائرس کے خلاف ویکسین تیار اور رجسٹر کرنے والا پہلا ملک تھا، لیکن روس کے خلاف آج غلط معلومات پھیلانے والے کئی ممالک نے اس وقت روسی ویکسین کو لائسنس نہیں دیا۔
ان کے مطابق روسی ویکسین لگوانے والے افراد کو بعض مغربی ممالک میں سفر، ویزا اور دیگر سہولتوں کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ مغربی ممالک کی تیار کردہ ویکسین لگوانے والوں کو یہی سہولتیں فراہم کی گئیں۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ اس رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بعض مغربی حکومتوں کے لیے عوامی صحت سے زیادہ سیاسی اور مالی مفادات اہم تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کووڈ 19 کے دوران ویکسین کی خریداری اور تقسیم کو بھی سیاسی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
انہوں نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیئر لائن کے ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے امریکی ویکسین کی خریداری کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی ویکسین کے خلاف وسیع پیمانے پر منفی اور گمراہ کن معلومات پھیلائی گئیں، جبکہ امریکی ویکسین کی بڑی مقدار یورپی شہریوں کے لیے خریدی گئی۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ کچھ ممالک نے وبا کے دوران ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا، اپنی تحقیق اور تجربات دوسروں کے ساتھ شیئر کیے اور عالمی خطرے پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی تعاون میں حصہ لیا۔ تاہم بعض مغربی ممالک نے اس بحران کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔
انہوں نے کہا کہ سائبیرین لیبارٹری کے حالیہ واقعے سے متعلق اطلاعات بھی روس کے خلاف جاری اسی وسیع معلوماتی مہم کا حصہ ہیں۔
روسی ترجمان نے بوچا کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے بھی روس کے خلاف بڑے پیمانے پر پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات شروع ہوچکے تھے اور دونوں ممالک کے وفود امن منصوبے پر کام کر رہے تھے، لیکن اس وقت کے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے دورۂ کیف کے بعد مذاکراتی عمل روک دیا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ مغربی ممالک کو یوکرین میں جنگ بندی اور مذاکرات کے بجائے لڑائی جاری رکھنے میں دلچسپی تھی، اس لیے مذاکرات ختم ہونے کے بعد عالمی برادری کے سامنے اس فیصلے کا جواز پیش کرنے کے لیے بوچا کے واقعات کو استعمال کیا گیا۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس نے بار بار بوچا میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے افراد کے نام، تاریخ پیدائش، تدفین کے مقامات اور دیگر معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن ماسکو کو مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بوچا میں نصب یادگار پر درج ناموں کی روسی حکام نے جانچ کی تو ان میں ایسے جنگجو بھی شامل تھے جن کا بوچا سے تعلق نہیں تھا، جبکہ بعض افراد ممنوعہ قوم پرست گروہوں سے وابستہ تھے۔
روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے یوگوسلاویہ کے شہر راچک اور دوسری عالمی جنگ کے دوران نیمرسڈورف کے واقعات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلے بھی اشتعال انگیز واقعات اور غلط اطلاعات کو فوجی کارروائیوں اور سیاسی فیصلوں کے جواز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس کے خلاف جعلی اور گمراہ کن اطلاعات کو فوجی بجٹ بڑھانے، مذاکراتی عمل روکنے، سیاسی دباؤ پیدا کرنے اور روس مخالف اقدامات کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ غلط معلومات کا یہ مسلسل بہاؤ اس لیے برقرار رکھا جاتا ہے تاکہ روس مخالف بیانیے کو زندہ رکھا جاسکے۔ روس کو پہلی مرتبہ ایسی صورتِ حال کا سامنا نہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی روسیوں، یہودیوں، روما، سلاو اقوام اور دیگر لوگوں کے خلاف اسی نوعیت کا پروپیگنڈا کیا گیا تھا۔‘
ماریہ زخارووا نے کہا کہ روس ماضی میں بھی اس قسم کے پروپیگنڈے اور دباؤ کا مقابلہ کرچکا ہے اور اب بھی حقائق، سرکاری معلومات اور تاریخی شواہد کے ذریعے جھوٹی خبروں کا جواب دیتا رہے گا۔