خلاصہ
- ماسکو: (شاہد گھمن) روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو امریکی مذاکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی تجاویز سننے کے لیے تیار ہے، تاہم روس کسی قسم کی سیاسی رعایت نہیں دے گا۔
روسی وزیر خارجہ نے پہلی مرتبہ سفارتی خدمات میں شامل ہونے والے یونیورسٹی گریجویٹس کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ امریکی صدارتی تاریخ میں یہ ایک سیاسی روایت اور عمومی طور پر قبول شدہ طریقہ بن چکا ہے کہ نیا صدر اپنے پیش رو کے فیصلوں کا پابند نہیں ہوتا۔
سرگئی لاوروف کے مطابق یہ ایک مضبوط سیاسی طریقہ ہے جسے روس کے ساتھ مذاکرات میں سودے بازی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو روس کے دورے جاری رکھنے اور مختلف معاملات پر تجاویز پیش کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماسکو دیکھے گا کہ امریکی مذاکرات کار کیا تجاویز پیش کرتے ہیں، اگر ان کی تجاویز روس کے لیے اقتصادی اور مالی لحاظ سے فائدہ مند ہوئیں تو انہیں قبول کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔
تاہم سرگئی لاوروف نے واضح کیا کہ اس طرح کے کسی بھی ممکنہ تعاون کے بدلے روس کی جانب سے کوئی سیاسی رعایت نہیں دی جائے گی، روس کو یہ توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے کہ عالمی معاملات میں کوئی ایسی سیاسی صورتحال پیدا ہوگی جو ہر لحاظ سے اس کے لیے سازگار ہو۔
روسی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ روس کو اپنے مفادات کے تحفظ اور عالمی معاملات میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے صرف اپنی صلاحیتوں اور وسائل پر انحصار کرنا چاہیے۔