چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک، پاکستان کی مدد کی پیشکش

چین میں زلزلے سے سینکڑوں مکان منہدم، 16 افراد ہلاک،  پاکستان کی مدد کی پیشکش

زلزلے کی شدید سات اعشاریہ ایک تھی، تبت کے شمالی شہر ناگچو میں کم سے کم 339 مکانات منہدم ہوئے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ ملبے کے نیچے لوگ دبے ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں ایک ہزار چھ سو سے زائد کارکن شریک ہیں جبکہ متاثرین کے لیے ایک ہزار عارضی مکانات، قریباً تین ہزار خیمے اور دوسرا سامان بھجوایا گیا ہے جس میں فولڈنگ بیڈز، کھانے پینے کی اشیا، ٹارچز اور سردی سے بچنے کے کپڑے وغیرہ بھی موجود ہیں۔

امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلہ چینی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 33 منٹ پر آیا، اس کا مرکز ناگچو شہر سے 191 کلومیٹر شمال مشرق میں تھا جبکہ زمین میں اس کی گہرائی 18 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

بڑے زلزلے کے بعد اب چار اعشاریہ تین اور پانچ اعشاریہ دو کے کم سے کم سات آفٹرشاکس بھی آ چکے ہیں۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے سے بعض علاقوں میں مواصلاتی نظام بھی متاثر ہوا جبکہ ریلوے حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر متاثرہ علاقے سے گزرنے والی ٹرینیں روک دی ہیں۔

زلزلے کے باعث لینڈ سلائیڈنگ بھی ہوئی جس کے بعد نیشنل ہائی وے 317 کا ایک حصہ بند کردیا گیا، اس سڑک پر صرف امدادی اور سرکاری گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت ہے، آئندہ تین روز کے دوران زلزلے سے متاثرہ علاقے میں وقفے وقفے سے برف باری کا بھی امکان ہے۔

یہ پچھلے پانچ سال کے دوران اس علاقے میں آنے والا سب سے شدید زلزلہ ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے زلزلہ متاثرین کو بچانے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

ناگچو شہر تبت کے دارالحکومت لہاسا سے 300 کلومیٹر سے زیادہ شمال میں واقع ہے۔

پاکستان کی مدد کی پیشکش

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے تباہ کن زلزلے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور لوگوں کے زخمی ہونے پر چین سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنی ایکس پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے صدر شی جن پنگ اور اپنے چینی بہن بھائیوں، بالخصوص اپنے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے چینی بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔