تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی

مشکل وقت میں غریبوں کے ساتھ کھڑے ہیں: شاہد آفریدی

Last Updated On 29 June,2020 06:11 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی کا کہنا ہے کہ وہ اور اُن کی ٹیم اس مشکل وقت میں غریبوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

فوٹو اور ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر سابق کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے کچھ تصاویر شیئر کی ہیں اور ساتھ ہی کیپشن میں لکھا ہے کہ شاہد آفریدی فاؤنڈیشن اور ’ڈونیٹ کرو نا ‘کی ٹیم کے افراد ٹھیلے والوں، یومیہ اُجرت پر کام کرنے والےاور چھوٹا کاروبار کرنے والے افراد کو اس مشکل وقت میں راشن تقسیم کررہے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ کورونا وائرس کی صورتحال میں وہ ایسے ہی غریب لوگوں کی مدد کرتے رہیں گے۔ شاہد آفریدی نے آخر میں لکھا کہ اُن کو مزید سپورٹ کرنے کے لیے www.donatekarona.com پر رابطہ کریں۔

اس سے قبل نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی کھلاڑی ہربھجن سنگھ اور دیگر کی جانب سے آئندہ تعاون نہ کرنے کے بیان پر ان کا کہنا تھا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ کشمیر میں ظلم ہورہا ہے اور مسلمان کبھی ظلم کو چھپا نہیں سکتا، میں نے کوئی غلط بات نہیں کی ہے۔

کورونا وائرس کے حوالے سے انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کو ناقص قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مارکیٹ میں لوگوں کا رش زیادہ ہوتا ہے۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ ساری قوم کا شکریہ ادا کروں گا جس نے مجھے اور میرے پورے گھر والوں کو دعاؤں میں یاد رکھا لیکن مجھ میں ایسی کوئی علامات نہیں تھیں۔

کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جس دن ہوا تھا اس کے بعد تین چار دن تھوڑے مشکل تھے جس کے بعد کافی بہتری آرہی تھی لیکن میں نے شروع کے دو تین دن کے علاوہ قرنطینہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب بہتری آئی تو میں کمرے سے باہر آیا اور اپنے معمولات اور سرگرمیاں بحال کردیں کیونکہ بستر پر لیٹا رہتا تو میرے لیے مشکل ہوجاتا اس لیے میں 100 فیصد تو نہیں 50 فیصد ٹریننگ کررہا تھا۔

سابق کپتان نے کہا کہ ٹریننگ شروع کی تو مجھے بھوک لگ رہی تھی اور کھانا کھانے کو دل چاہتا تھا کیونکہ شروع میں ایک دو دن کھانے میں ذائقہ نہیں آرہا تھا۔ میں خود ہی اپنا ڈاکٹر بن گیا تھا، فاصلے اور صفائی کے حوالے سے احتیاط کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

شاہد آفریدی نے کورونا وائرس سے متعلق کہا کہ یہ ایک ایس بیماری ہے کہ اس کو بالکل سرپر بھی نہیں چڑھانا چاہیے لیکن ساتھ میں احتیاط بہت ضروری ہے۔

دور دراز علاقوں میں آگاہی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مجھے شک تھا کہ یہ ہوگا لیکن شکر ہے شروع کے دنوں میں نہیں ہوا ورنہ بہت سارے لوگ متاثر ہوتے کیونکہ میں راشن تقسیم کرنے گیا تھا اور تین یا ساڑھے تین ماہ بعد میں متاثر ہوا۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ شہر جاتے ہیں یا آتے ہیں تو وہاں کچھ آگاہی تھی اور احتیاط بھی کہیں نظر آئی کہیں نہیں تھی، جیسا اگر کراچی میں لاک ڈاؤن ڈیفنس، کلفٹن میں تو نظر آیا لیکن باقی شہر کھلا ہوا ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ مجھے تو لاک ڈاؤن کی سمجھ نہیں ہے کہ اس وقت سے لے کر اس وقت تک کھول دیں کیونکہ جب لوگوں کو پتا ہوتا ہے کہ 7 بجے کے بعد سب کچھ بند ہوجائے گا تو کتنا رش ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنا خیال خود رکھنا پڑے گا، ہمارے ہاں کووڈ-19 سے پہلے غربت اور بے روزگاری کا مسئلہ ہے، کووڈ-19 تو ختم ہوجائے گا لیکن کووڈ-19 سے بڑی بیماری بے روزگاری ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کووڈ-19 کے بعد کیا ہوگا کیونکہ میں ایسے لوگوں سے مل کر آیا ہوں جو مشکل میں ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ احساس پروگرام کا حصہ نہیں تھے اور شناختی کارڈ نہیں تھا اور ہہت سارے لوگ ایسے تھے کہ حکومت نے راشن کے لیے شناختی کارڈ لیے ہیں لیکن دو سے ڈھائی مہینے ہوئے ہیں وہ انتظار کررہے تھے اور راشن نہیں آیا تھا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ میرے خیال میں ایسے سیاست دان بھی دیکھے ہیں کہ وزیر اور اراکین اسمبلی کا ایک گروپ جمع ہوا تھا لیکن انہیں کوئٹہ سے زیارت یا پشین جاتے ہوئے وہ لوگ نظر نہیں آئے جو جھونپڑیوں کے اندر ہیں، جو بچے ننگے پاؤں ہیں حالانکہ مجھے کراچی سے بیٹھے بیٹھے نظر آئے اور میں ان کے پاس دوسری مرتبہ گیا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں طاقت اور اختیار دیا ہے وہ کہاں ہیں، میرے پاس تو کرسی نہیں ہے، کام کرنے کے لیے کرسی کی ضرورت نہیں نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔

سابق سٹار آل راؤنڈر نے کہا کہ جن کے پاس کرسی ہے اورجو حال میں دیکھ کر آیا ہوں، ان سے یہاں پوچھا جائے گا اور اوپر بھی پوچھا جائے، اوپر تو پوچھا جانا ہے لیکن ان سے یہاں بھی پوچھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشنز بھی کام نہیں کررہی ہیں، جو بڑی این جی اوز ہیں یہ صرف شہروں کے اندر کام کرتی ہیں تاکہ میڈیا اورہر جگہ نظر آئے، بہت ساری این جی اوز کام نہیں کرتی لیکن بہت کم این جی اوز ہیں جو کام کررہی ہیں۔

سیاست میں آنے کے حوالے سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں تصویروں سے جتنا چڑتا ہوں شاید ہی کوئی اور اسٹار چڑتا ہوگا لیکن مجھے وہ آدمی مل نہیں رہا جس نے یہ تصاویر کھینچی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر میں نے اپنی نماز پڑھنے کی تصویر نہیں لگائی کیونکہ یہ میرا اور اللہ کا معاملہ لیکن لوگ خود سے نکال کر لگاتے ہیں تو میں ان کو نہیں روک سکتا۔ میں نے بہت سارے برانڈز کے ساتھ کام کیے جس سے مجھے فائدہ ہوتا تھا اور برانڈ کی تشہیر ہوتی تھی لیکن اس کام کا پروڈیوسر، ڈائریکٹر، رائٹر، کیمرا مین اور فوٹوگرافر بھی میں خود ہوں، یہ غریبوں کا برانڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں کو دنیا کے سامنے دکھانا چاہتا ہوں کہ یہ لوگ ہیں جو حقیقت میں ضرورت مند ہیں اور ان تک پہنچاجائے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔ میرا دکھانے کا مقصد جن لوگوں سے عطیات ملتے ہیں ان کو دکھانا ہے تاکہ انہیں دکھایا جائے کہ آپ کے عطیات اورپیسے یہاں آرہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جو سیاست میرے دادا اور پردادا نے کی ہے، مجھے وہ سیاست بہت پسند ہے، وہ بہت سادہ سی سیاست ہے کہ عوام کی خدمت کرنا اور ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنا اور حق دار کو اس کا حق دینا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ کسی کام کو کرنے کی مجھے کرنے کے لیے کسی کرسی کی ضرورت نہیں ہے، میں چاہتا ہوں کام تھوڑا ہو لیکن معیاری کام ہو اور فی الحال سیاست میں آنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن کل کیا ہوگا یہ اللہ جانتا ہے کیونکہ میں زیادہ دور کی منصوبہ بندی نہیں کرتا۔