تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 27 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 29 ہزار 219 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24گھنٹےکےدوران 70 ہزار 389 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24گھنٹےمیں کوروناکےمزید7 ہزار 963 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 11.31 فیصدرہی،این سی اوسی

امید ہے پاک بھارت ٹیمیں سہ ملکی سیریز میں مدمقابل ہوں گی: رمیز راجہ

Published On 17 November,2021 06:37 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) پاک بھارت کرکٹ سیریز کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئر مین رمیز راجہ نے کہا ہے کہ سیاسی کشیدگی کے باعث روایتی حریف ملک کیساتھ ابھی سیریز مشکل ہے لیکن امید کرتے ہیں دونوں ٹیمیں سہ ملکی سیریز میں مدمقابل ہوں گی۔

 

تفصیلات کے مطابق دنیائے کرکٹ میں سب سے زیادہ دیکھی جانے والی سیریز پاکستان اور بھارت کی ہوتی ہیں، دونوں ممالک کی عوام ہر لمحہ کرکٹ دیکھنے کے لیے خواہشمند ہوتی ہیں، تاہم بھارت میں موجود ہٹ دھرم بی جے پی کی حکومت نے اپنی نام نہاد پالیسیوں کے باعث اپنی ٹیم کو گرین شرٹس کیساتھ کرکٹ کھیلنے سے روکا ہوا ہے۔

اپنے ایک بیان میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئر مین رمیز راجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز نہ ہونے کی وجہ دونوں ممالک میں سیاسی کشیدگی ہے، جس کے باعث سیریز فوری طور پر ہونا مشکل ہے۔ اس کے باوجود میں آئی سی سی میٹنگ کے دوران میری بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سارو گنگولی سے ملاقات ہوئی ہے جہاں پر سریز کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل شارجہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ سارو گنگولی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ کرکٹ سیریز ایسی چیز ہے جس پر متعلقہ حکومتوں کو کام کرنا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے بورڈز کے ہاتھوں میں نہیں ہے، آئی سی سی ٹورنامنٹوں میں دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھیلتی ہیں ، دو طرفہ کرکٹ کو سالوں سے روک دیا گیا ہے اور یہ کچھ ایسا ہے جس پر متعلقہ حکومتیں ہی کچھ بتا سکتی ہیں۔

دوسری طرف رمیز راجہ نے کہا کہ رمیز راجہ نے کہا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کی میزبانی مل جانے کے بعد چیلنجز اور زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ بڑے ایونٹ کی میزبانی ملنا بہت بڑی کامیابی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ اعلان کے مطابق پاکستان چیمپئنز ٹرافی 2025 کی میزبانی کریگا ۔

رمیز راجہ کا مزید کہنا تھا کہ معیار کو بہتر بنانا ہو گا،پاکستان کرکٹ بورڈ ایک ادارہ ہے، کسی کے آنے یا جانے سے فرق نہیں پڑنا چاہیے جبکہ انگلینڈ، نیوزی لینڈ سمیت دنیا بھر سے اپنا موقف منوایا ہے۔

اس سے قبل آئی سی سی کے عبوری چیف ایگزیکٹو کی طرف سے بتایا گیا تھا دونوں بورڈز کے درمیان کچھ تناؤ ہے، جس کے باعث فوری طور پر سیریز ہونا ممکن نہیں۔ کسی بھی دو طرفہ کرکٹ کی طرح اگر دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈ متفق ہوتے ہیں تو آپس میں سیریز کھیلتے ہیں اور اگر رضا مندی نہیں ہوتی تو سیریز بھی نہیں ہوتی۔ لگتا ہے پاک بھارت سیریز کو لے کر حالات میں بہت زیادہ تبدیلی نہیں ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ گرین شرٹس اور روایتی حریف بھارت کے درمیان 8 سالوں میں کوئی دو طرفہ سیریز نہیں ہوئی ہے۔ آخری دو طرفہ سیریز 13-2012 میں ہوئی تھی۔ اس سیریز میں پاکستان نے بھارت کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے ون ڈے سیریز میں پچھاڑا تھا جبکہ ٹی ٹونٹی سیریز ایک ایک سے برابر ہو گئی تھی۔ اس کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان دو طرفہ کرکٹ ختم ہو چکی ہے، آئی سی سی کے ٹورنامنٹ میں ہی دونوں ٹیموں کو آپس میں مدمقابل ہوتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کی ٹیموں نے 2007 میں آخری بار ٹیسٹ سیریز کھیلی تھی۔ اس سیریز کا میزبان بھی بھارت تھا، 2009 میں بھارتی ٹیم کو پاکستان میں سیریز کھیلنے کے لئے جانا تھا لیکن روایتی حریف کے ملک نے بہانہ بنا کر سیریز منسوخ کر دی تھی۔