کراچی میں این سی سی آئی اے کا کال سینٹر پر چھاپہ، 274 افراد گرفتار

کراچی میں این سی سی آئی اے کا کال سینٹر پر چھاپہ، 274 افراد گرفتار

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے شہزاد اکبر کے مطابق ملزمان مختلف ناموں سے اکاؤنٹس بنا کر فراڈ کرتے تھے، کارروائی کے دوران 339 لیپ ٹاپ برآمد کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمان جعلی آئی ڈیز بنا کر غیرملکیوں کو لوٹتے تھے، غیرملکیوں کے ساتھ مقامی افراد کو بھی فراڈ کا نشانہ بنایا گیا۔

کراچی میں 300 سے 350 سکیمنگ کال سینٹرز کام کر رہے ہیں، سائبر کرائم حکام

سائبر کرائم حکام نے کہا ہے کہ سائبر کرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، روایتی جرائم بھی سائبر کرائم کا رخ اختیار کر رہے ہیں، سائبر کرائم کی کوئی حدود نہیں ہوتیں اور اس میں شناخت چھپائی جا سکتی ہے۔

حکام کے مطابق چند روز قبل ڈارک ویب کے حوالے سے متاثرہ بچی کو بازیاب کرایا تھا، اس کے علاوہ بھی حال ہی میں دیگر قابل ذکر کارروائیاں کی گئی ہیں، سائبر کرائم کے معاملات تکنیکی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ شناخت چھپا کر جعلی شناخت بتا کر لوگوں کے اکاؤنٹس خالی کرنا غیرقانونی ہے، کراچی میں 300 سے 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کام کر رہے ہیں، سب کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ تین بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے خلاف کارروائی کی گئی، مذکورہ کمپنی کے خلاف ماضی میں بھی کارروائی ہو چکی ہے، ماضی میں کہا جاتا تھا کہ صرف مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

حکام کے مطابق متاثرہ نیٹ ورک میں تقریباً 100 خواتین اور 42 ٹین ایجرز لڑکے لڑکیاں شامل ہیں، ماضی میں ان کے خلاف کارروائی کی گئی تو انہوں نے دوبارہ کام شروع کر دیا، اب پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔