خلاصہ
- (محمد اکرم چھیپا) پاکستان میں ساحلی علاقوں کی خوبصورتی یوں تو کراچی میں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہے، ان میں کلفٹن اور منوڑہ عوام کے پسندیدہ مقامات ہیں جبکہ پیراڈائز پوائنٹ کو بھی انفرادیت حاصل تھی۔
وقت کے ساتھ نئے ساحلی مقامات کی بھی تعمیر وترقی اور توسیع کی گئی، ان میں سی ویو اور دو دریا کافی مقبول ہیں، اس کے ساتھ ہی سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر موجود مبارک ویلج اور چرنہ آئی لینڈ بھی عوام میں کافی مقبول مقامات ہیں جہاں پورے پاکستان سے کثیر تعداد میں لوگ آتے ہیں، اسی سرحد کو عبور کرکے جب بلوچستان میں داخل ہوتے ہیں تو گڈانی بیچ کے نظارے اور پہاڑی چٹانوں کی دلکشی سیاحوں کو تھام لیتی ہے۔
یہیں پاکستان کی سب سے بڑی شپ بریکنگ کی صنعت قائم ہے جہاں دنیا بھر سے دیو ہیکل بحری جہاز اپنی طبعی عمر پوری کر کے پہنچتے ہیں، یہاں سے مزید آگے کی جانب سفر کے دوران جاذبِ نظر ساحل ڈام آتا ہے جو سنہری ریت کے ٹیلوں پر مشتمل ہے، یوں ایک جانب سمندر تو دوسری جانب صحرا کا منظر ہوتا ہے۔
جب ہم مزید آگے زیرو پوائنٹ کی طرف جائیں گے تو یہاں سے مکران کوسٹل ہائی وے کا آغاز ہوتا ہے اور یوں بلوچستان کا دلکش ساحلی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جب ہم مڈ والکینو کی جانب پہنچتے ہیں تو یہاں سے ایک آف روڈ ٹریک سپت بیچ پر پہنچتا ہے جو بوجی کوہ کے باعث مشہور ہے، اس ساحل کی دلکشی اور خوبصورتی قابلِ دید ہے۔
یہاں سورج کا طلوع اور غروب اسی ساحل پر روبرو ہوتا ہے اور رات ہونے پر لہریں چمکتی ہیں، یہاں طعام و قیام بذاتِ خود کرنا پڑتا ہے جس کے باعث کیمپنگ کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے، جب آگ کا الاؤ روشن ہوتا ہے تو سامنے اندھیرے میں گم بوجی کوہ مراقبہ میں مصروف دکھا ئی دیتا ہے، صبح کو طلوعِ آفتاب کے بدلتے رنگ چمکتے ہیں تو پھر اگلی منزل کی جانب دریائے ہنگول کو عبور کرتے ہوئے بلوچستان کے مشہور ساحل کنڈ ملیر پر پہنچتے ہیں جو سیاحوں کی پسندیدہ جگہ ہے، یہاں طعام و رہائش کی سہولت کے ساتھ ساتھ پیرا گلائڈنگ کے شوق سے بھی لطف اندوز ہوا جاسکتا ہے۔
ساحل کی لہروں سے سیاح لطف اندوز ہوتے ہیں اور اپنے اس سفر کو یادگار بنا کر زیادہ تر سیاح واپس لوٹ جاتے ہیں مگر کچھ سیاح پرنسس آف ہوپ سے ہوتے ہوئے بوزی ٹاپ کی بلندی کو عبور کرکے اورماڑہ بیچ پر کیمپنگ کرتے ہیں اوراورماڑہ کے اس بیچ کو انجوائے کرتے ہیں جو دور تک جانے پر بھی گہرا نہیں ہے ۔یوں اس ساحل کا چوڑا پاٹ سیاحوں کے لیے سمندر سے مستی کرنے کا دلکش مقام ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہو تی ،یہ ساحلی سفر سیاح کو مزید آگے لے جاتا ہے جو پسنی کے دلکش ساحل زرین بیچ اور جوڈی بیچ کے گہرے ساحل میں کھڑے پہاڑوں کے قریب پہنچا دیتا ہے، یہ دلکش مناظر پسنی کی شان کو مزید منفرد بنا دیتے ہیں، پسنی بندرگاہ سے بلوچستان کے مشہور جزیرے استولا کے لیے جایا جاتا ہے۔
پسنی کے صحرا سے ملتے ہوئے یہ سفر ہمیں گوادر کے گہرے سمندری حصہ پر پہنچا دیتا ہے جہاں موجود بندرگاہ پاکستان کی درآمدات و برآمدات کے لیے موضوع ترین مقام ہونے کے ساتھ ساتھ جدید شہر میں منتقل ہوتا جارہا ہے، یہاں کے ساحلی حصوں پر کراچی کی طرح سیاح اور مقامی لوگوں کی اکثریت نظر آتی ہے جو تفریح و طعام کی غرض سے آتے ہیں۔
گوادر کا ساحل غروبِ آفتاب کے خوبصورت نظاروں کے حوالے سے مشہور ہے۔ جب سورج غروب ہونے والا ہوتا ہے تو سیاحوں کی کثیر تعداد اس منظر کو دیکھنے پہنچ جاتی ہے،۔ سمندر پر سایہ فگن کوہ باطل کی بلندی سے گوادر شہر کا دلکش نظارہ اور شہر کے دونوں جانب پھیلا سمندری نظارہ اپنی مثال آپ ہے۔
یہ ساحلی دلکشی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں سے مزید آگے پیشوکان کے خوبصورت مقام سے آگے گنز کا ساحل واقع ہے جو ڈولفن مچھلیوں کی آماجگاہ ہے اور یہ دلکش منظر دیکھنے چند ہی مہم جو سیاح یہاں تک آتے ہیں، پھر یہ ساحلی حصہ ایران کے ساحلی علاقوں سے ہم آہنگ ہوکر دو ملکوں کی سرحدوں کا تعین کرکے سیاحوں کو الوداعی دیدار کرواتا ہے۔
یہیں بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی کا سفر مکمل ہوتا ہے۔ بلاشبہ بلوچستان کے ساحلی علاقے قابلِ دید ہی نہیں بلکہ ناقابلِ فراموش ہیں۔ میں نے یہ مکمل ساحلی سفر بائیک پر کیا اسی وجہ سے میرے سفر کا مزہ دوبالا رہا۔