ٹیکسلا: گندھارا تہذیب کا دل

ٹیکسلا: گندھارا تہذیب کا دل

یونیسکو نے 1980ء میں اسے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا جو اس کی ہمہ گیر اہمیت کا بین ثبوت ہے، ٹیکسلا کی تہذیب کا مطالعہ ہمیں برصغیر کی سیاسی، سماجی اور مذہبی تاریخ کے نشیب و فراز کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

ٹیکسلا کا ذکر قدیم ہندو متون، بدھ مت کی تحریروں اور یونانی مؤرخین کی روایات میں ملتا ہے۔ اس کے آثار راولپنڈی کے قریب دریائے ہرو اور مارگلہ کے پہاڑوں کے درمیان پائے جاتے ہیں، جغرافیائی اعتبار سے یہ خطہ وسطی ایشیا، برصغیر اور ایران کو ملانے والی شاہراہوں کے سنگم پر واقع تھا، یہی مقام اسے تجارتی قافلوں کے لیے ناگزیر منزل اور مختلف تہذیبوں کے ملاپ کا گہوارہ بناتا رہا۔

ابتدائی ارتقا

آثارِ قدیمہ کے مطابق ٹیکسلا کی بنیاد تقریباً 1000 قبل مسیح میں رکھی گئی، یہاں کی قدیم بستیوں میں ہتھال، سرکپ اور سرسکھ کے آثار شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر آریائی قبائل کے اثرات نمایاں تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ایرانی، یونانی اور وسط ایشیائی عناصر نے اس کی ثقافت کو نئی جہتیں عطا کیں۔

چھٹی صدی قبل مسیح میں ہخامنشی (Achaemenid) سلطنت کے زیر نگیں آنے کے بعد یہاں پارسی انتظامی نظام اور سکے رائج ہوئے۔چوتھی صدی قبل مسیح میں جب سکندر اعظم برصغیر پہنچا تو ٹیکسلا ایک خوشحال اور طاقتور ریاست تھی۔

سکندر کے بعد موریہ سلطنت کے عہد میں یہ شہر بدھ مت کے بڑے مراکز میں شمار ہونے لگا، خصوصاً اشوک اعظم (232-273ق م) کے دور میں بدھ مت کی تبلیغ اور تعلیم کو غیر معمولی فروغ ملا،اشوکا نے یہاں خانقاہیں اور اسٹوپا تعمیر کرائے جن کے کھنڈرات آج بھی موجود ہیں۔

ٹیکسلا قدیم دنیا کی سب سے قدیم جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اسے   ٹیکسلا یونیورسٹی‘‘ کے نام سے شہرت حاصل ہوئی جہاں برصغیر اور بیرون ممالک سے طلبہ آکر طب، ریاضیات، فلسفہ، منطق، مذہب، جنگی علوم اور فنونِ لطیفہ کی تعلیم حاصل کرتے، یونانی مؤرخوں نے ذکر کیا ہے کہ یہاں کے اساتذہ نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی طلبہ کو بھی تعلیم دیتے تھے۔

معروف طبیب جیوک اور مشہور پنڈت کانیہ اسی جامعہ سے وابستہ تھے۔ ٹیکسلا گندھارا تہذیب کا دل تھا جہاں یونانی اور بدھ مت ثقافتوں کے امتزاج سے ایک نئی فنکارانہ روایت نے جنم لیا، گندھارا آرٹ میں یونانی مجسمہ سازی اور بدھ مت کے مذہبی تصورات کی آمیزش نمایاں نظر آتی ہے۔

بدھ کے مجسمے جن میں یونانی طرز کے خد و خال اور مقامی روحانیت جھلکتی ہے، آج دنیا بھر کے عجائب گھروں کی زینت ہیں، چونکہ ٹیکسلا شاہراہِ ریشم کے قریب واقع تھا اس لیے یہاں کی معیشت تجارت پر مبنی تھی۔ ایران، چین اور وسط ایشیا کے قافلے یہاں آتے اور مقامی بازاروں کو رونق بخشتے۔

زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ دھات کاری، برتن سازی اور زیورات کی صنعت بھی ترقی یافتہ تھی، ٹیکسلا کا زوال مختلف تاریخی عوامل کا نتیجہ تھا، پہلی صدی قبل مسیح میں سیتھی (scythian) اور کشن (kushan) سلطنتوں نے اس علاقے پر قبضہ کیا، اگرچہ ان ادوار میں بھی بدھ مت کی ترویج جاری رہی، مگر سیاسی عدم استحکام نے اس کی ترقی کو متاثر کیا۔

پانچویں صدی عیسوی میں ہنوں (Huns) کی یلغار نے ٹیکسلا کی بربادی کی بنیاد رکھی۔ ہن قبائل نے شہر کو تاخت و تاراج کیا، خانقاہیں مسمار کیں اور علمی مراکز کو جلا ڈالا، نتیجتاً ٹیکسلا کا علمی و ثقافتی کردار ختم ہوگیا۔

آثارِ قدیمہ اور کھدائیاں

انیسویں اور بیسویں صدی میں برطانوی ماہرِ آثار قدیمہ سر جان مارشل اور دیگر محققین نے ٹیکسلا کی کھدائیاں کیں۔ ان سے قدیم شہر کی گلیاں، مکانات، بدھ خانقاہیں اور اسٹوپا دریافت ہوئے، سرکپ کا منظم شہر یونانی اثرات کا شاہکار ہے جبکہ جولیاں کی خانقاہ بدھ مت کے تعلیمی و روحانی مرکز کی یاد دلاتی ہے۔

ٹیکسلا میوزیم میں رکھے گئے سکے، برتن اور مجسمے اس عظیم تہذیب کی داستان سناتے ہیں۔ٹیکسلا کی تہذیب ایک ایسا درخشاں باب ہے جس نے برصغیر کی فکری و تہذیبی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

یہ شہر تہذیبوں کے ملاپ، علمی جستجو اور مذہبی ہم آہنگی کی علامت رہا۔ اگرچہ وقت کی یلغار نے اس کو مٹا ڈالا، لیکن اس کے آثار آج بھی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ علم و فن اور ثقافت کا فروغ کسی خطے کو صدیوں تک زندہ رکھتا ہے۔

ٹیکسلا کا مطالعہ نہ صرف ہمارے ماضی کی جھلک دکھاتا ہے بلکہ یہ سبق بھی دیتا ہے کہ تہذیبوں کی بقا سیاسی استحکام، ثقافتی ہم آہنگی اور علمی سرپرستی پر منحصر ہے۔