لاہور: (ویب ڈیسک) مس یونیورس پاکستان 2025 منتخب ہونے والی روما ریاض نے کہا ہے کہ انہوں نے محنت ضرور کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ جیتنا قسمت میں لکھا تھا۔
25 سالہ روما ریاض نے بتایا کہ مس یونیورس پاکستان کا مقابلہ کافی مشکل ہوتا ہے اور اس میں انٹرویو کا مرحلہ زیادہ طویل ہوتا ہے، تاکہ مس یونیورس کے انتخاب کے مقابلے میں جاکر مشکل پیش نہ آئے۔
مس یونیورس پاکستان کے مقابلے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ پہلے 51 لڑکیاں شارٹ لسٹ ہوئی تھیں، پھر ان میں سے 20 کا انتخاب ہوا اور آخر میں چھ لڑکیاں رہ گئیں جن کے درمیان مالدیپ میں حتمی مقابلہ ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ مس یونیورس پاکستان میں مس یونیورس کا پورا فارمیٹ ہی ہوتا ہے، ایک ہفتہ آپ کا رویہ دیکھا جاتا ہے، سوال جواب کی نشست ہوتی ہے اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ کیسی نظر آتی ہیں۔
محنت سے جیتیں یا قسمت نے ساتھ دیا؟ اس سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے محنت تو بہت کی تھی لیکن اس مقابلے میں سبھی بہت محنت کرتے ہیں، بس میرے نصیب میں کامیابی لکھی تھی۔
خیال رہے کہ مس یونیورس پاکستان کا تاج سر سجانے کے بعد انہوں نے 21 نومبر 2025 کو تھائی لینڈ میں ہونے والے مس یونیورس کے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔
خود پر ہونے والی نکتہ چینی کے بارے میں روما ریاض کا کہنا ہے کہ انہیں اس سے فرق نہیں پڑتا، ان کا مقصد اچھا تھا، وہ مضبوط ارادوں کی مالک ہیں اور سمجھتی ہیں کہ نوجوان لڑکیوں کو سیکھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے تبصروں سے فرق نہیں پڑتا۔
اپنی رنگت اور وزن پر ہونے والے اعتراض کے جواب میں روما ریاض نے کہا کہ وہ جیسی بھی ہیں خوش ہیں، ہر لڑکی خوبصورت ہوتی ہے، کسی کو کچھ بدلنے کی ضرورت ہی نہیں۔



