وہ عام عادت جو لوگوں میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتی ہے

Published On 10 January,2026 05:48 am

لاہور: (ویب ڈیسک) ماہرین صحت نے لوگوں میں ہارٹ اٹیک کے خطرے کو بڑھا دینے والی عام عادت کا سراغ لگا لیا۔

عام مشاہدے کی بات ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات امراض قلب بشمول ہارٹ اٹیک سے ہوتی ہیں، تاہم لوگوں کی ایک ایسی عام عادت کا اس میں بہت زیادہ عمل دخل ہے جو ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھا دیتی ہے اور وہ عادت ہے زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا۔

حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھاتی ہے، تحقیق میں گلوبل برڈن آف ڈیزیز ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 1990ء سے 2021ء کے دوران اکٹھا کیا گیا تھا، اس ڈیٹا میں دنیا بھر کے افراد کی جسمانی سرگرمیوں اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تھا۔

تحقیق میں دریافت ہوا کہ ورزش یا جسمانی طور پر سرگرم رہنے سے دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے، 1990ء سے 2021ء کے دوران جسمانی سرگرمیوں سے دوری کے نتیجے میں ہر سال امراض قلب سے اموات کی شرح میں 0.70 فیصد اضافہ ہوا، ایسا اس وقت ہوا جب دنیا بھر میں جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت پر بہت زیادہ زور دیا جا رہا ہے۔

تحقیق کے دوران محققین نے جائزہ لیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے دل کو تحفظ ملتا ہے یا نہیں، اس مقصد کیلئے ہزاروں افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور پھر ان نتائج کا موازنہ جسمانی سرگرمیوں سے دور رہنے والے افراد کے ڈیٹا سے کیا گیا، نتائج سے واضح ہوا کہ جسمانی طور پر سرگرم رہنے والے افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والوں کے مقابلے میں 83 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق ڈیٹا سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری دنیا بھر میں امراض قلب کا بوجھ بڑھا رہی ہے اور حل بہت آسان ہے، بس اپنے جسم کو متحرک رکھیں۔