تازہ ترین
  • بریکنگ :- کوروناویکسین کی دونوں خوراکیں لگواناضروری ہیں،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- دونوں خوراکیں نہ لگوانےوالوں کوبھی بیماری لگنےکازیادہ خدشہ ہے،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- ویکسین کی ایک خوراک لگوانےوالےکمزورافرادسفرسےگریزکریں،عالمی ادارہ صحت

پاکستان میں جعلی خبروں کے خلاف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری متحرک

Published On 13 August,2021 05:39 pm

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستان میں جعلی خبروں کے خلاف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری متحرک ہو گئے، اکثر اوقات تقاریب اور ٹویٹر پر لوگوں کو آگاہ کرنے لگے۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ جس طرح ڈیجیٹل میڈیا ونگ نے بھارت افغانستان کی سکیورٹی سٹیبلشمنٹ سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کو بے نقاب کیا وہ اس پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

فواد چودھری نے مزید کہا کہ اس ڈیٹا نے ثابت کیا کہ فیک نیوز اور پروپیگنڈا کی لڑائی کیلئے صف بندی بہت ضروری ہے، پاکستان کی رائے عامہ کو حقیقت سے آگاہ رہنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت پاکستان نے 900 سے زائد جعلی مواد پھیلانے والی بھارتی ویب سائٹس پکڑ لیں

خیال رہے کہ چند عرصہ قبل وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا تھا کہ فیک نیوز کے خلاف سخت قانون سازی انتہائی اہم ہے اور جو گروہ فیک نیوز کیخلاف قانون سازی کی مخالفت کرتے ہیں اور اس طرح کی حرکتوں کو اظہار آزادی کہتے ہیں ان کی ذہنی اور توازن مشکوک ہے۔

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا تھا کہ بھارت کی جعلی 900 سے زائد ویب سائٹس پکڑی گئی ہیں، ان ویب سائٹس سے پاکستان کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی تھیں وہاں سے یہ خبریں سوشل میڈیا اٹھاتا تھا۔ یہ ویڈیو پاکستان کی سیاسی جماعتیں بھی استعمال کرتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: جعلی خبروں کے ذریعے پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں بھارت اور افغانستان ملوث نکلے

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ جب ان پر ایکشن لیا جاتا ہے تو اظہار رائے پر پابندی کا رونا رویا جاتا یے۔ میرے پاس جرمن سفیر ملاقات کے لیے آئے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آزادی اظہار رائے بہت کم ہو گیا ہے۔ تو میں انہیں بتایا کہ ہمارے ہاں 150 سے زائد چینلز ہیں ، 43 کے قریب انٹرنیشنل چینلز ہیں مجھے بتائیں کتنے چینلز میں آزادی اظہار رائے کی شکایات سنی ہیں۔ جس پر جواب دیتے ہوئے جرمن سفیر نے کہا کہ 8 سے 9 تو ہیں، اس پر میں نے جواب دیا کہ جرمنی میں 900 کیسز ہوئے اسلامو فوبیا کے لیکن ہم نے تو کبھی آپ سے اس طرح بات نہیں کی۔