تازہ ترین
  • بریکنگ :- دریاخان اورگردونواح میں گزشتہ دوروزسےوقفےوقفےسےبارش کاسلسلہ جاری
  • بریکنگ :- دریاخان:بارش کےباعث نشیبی علاقےزیرآب
  • بریکنگ :- جھنگ اورگردونواح میں بارش
  • بریکنگ :- گوجرہ اورگردونواح میں وقفےوقفےسےبارش
  • بریکنگ :- ظفروال اورگردونواح میں موسلادھاربارش
  • بریکنگ :- نشیبی علاقےزیرآب،سڑکیں اورگلیاں تالاب کامنظرپیش کرنےلگیں
  • بریکنگ :- بھکراورگردونواح میں وقفے وقفے سےبارش کاسلسلہ جاری

ایسے نکات جن پر عمل پیرا ہوکر ڈینگی وائرس سے بچا جاسکتا ہے!

Published On 29 September,2021 09:44 pm

لاہور:(ویب ڈیسک) ڈینگی وائرس کی وجہ سے ہونے والے بخار سے بچنے کیلئے متعدد اہم نکات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے بعد ایک مرتبہ پھر ڈینگی وائرس سر اٹھا رہا ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے حکومتی مشینری حرکت میں آگئی ہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے بھی چند روز قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ صوبے میں ڈینگی کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں جن پر قابو پانے کے لئے محکمہ صحت کی ٹیمیں متحرک ہوچکی ہیں جبکہ عوام سے گزارش ہے کہ اپنے گلی محلوں میں پانی نہ کھڑا ہونے دیں۔

تحقیق کے مطابق ڈینگی وائرس ایک مہلک بیماری ہے جس کی علامات عام بخار سے ملتی جلتی ہیں لیکن یہ اتنی طاقتور ہے کہ یہ انسانوں کے لیے مہلک ثابت ہوتی ہے۔

آج کل یہ وائرس دوبارہ زور پکڑ رہا ہے لیکن آپ کو کچھ اہم معلومات دیتے چلیں کہ ڈینگی وائرس کیا ہے اور یہ کیسے پھیلتا ہے تاکہ آپ اس مہلک وائرس سے محتاط رہیں۔

ڈینگی وائرس کیا ہے؟

یہ مہلک بیماری جو کہ تیزی سے بڑھی ہے اور پچھلے کچھ سالوں میں وبا بن چکی ہے مچھر کے کاٹنے کی وجہ سے پھیلتی ہے،انفیکشن کی نوعیت پر منحصر ہے کہ یہ چار سے سات یا دس دن تک رہتا ہے جبکہ اس سے غفلت مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈینگی وائرس کی علامات

علامات میں شدید سر درد ، ہڈیوں ، جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد ، آنکھوں کے پیچھے شدید درد ، جسم پر مختلف شکلوں اور سائز کے ریشم اور چوٹیں ، ناک سے خون ، مسوڑوں سے خون ، پیشاب میں خون اور بازو پر خون شامل ہیں۔

احتیاط

ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ مکمل بازو والی قمیض پہنیں اور پتلون استعمال کریں جو پوری ٹانگ کو ڈھانپیں جبکہ اپنے کپڑوں پر مچھر سے بچانے والے سپرے کو چھڑکیں۔

اگر آپ کے علاقے میں مچھر بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں تو مچھر دانی کا استعمال لازمی کریں۔

اپنے گھروں، برتنوں ، ٹوٹے ہوئے ٹائروں ، گلدانوں یا ٹوٹی ہوئی بوتلوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں جبکہ ڈینگی بخار کی ویکسین ضرورلگوائیں۔