خطرناک سٹیج کے لبلبے کے کینسر کیلئے نئی دوا امید بن گئی

خطرناک سٹیج کے لبلبے کے کینسر کیلئے نئی دوا امید بن گئی

لبلبے کے کینسر کے زیادہ تر مریضوں کو بیماری کا پتہ اُس وقت چلتا ہے جب کینسر جسم میں پھیل چکا ہوتا ہے اور سرجری ممکن نہیں رہتی۔

ایسے حالات میں کیموتھراپی ہی بنیادی علاج بنتی ہے لیکن بدقسمتی سے تشخیص کے بعد زیادہ تر مریضوں کی موت ایک سال کے اندر واقع ہو جاتی ہے۔

مزید یہ کہ 90 فیصد سے زائد مریضوں میں KRAS نامی جینیاتی میوٹیشن موجود ہوتی ہے، جو کینسر کو تیزی سے بڑھاتی ہے، طویل عرصے تک ماہرین کا خیال تھا کہ اس میوٹیشن والے کینسر کا مؤثر علاج ممکن نہیں۔

تاہم گزشتہ دہائی میںRAS انہیبیٹر نامی ادویات ایک امید بن کر ابھری ہیں، جو کینسر سے جڑے تبدیل شدہ جینز، خصوصاً KRAS ، کو نشانہ بنا کر اُن کے اثرات کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔