خلاصہ
- لاہور: (ویب ڈیسک) ماہر صحت کا کہنا ہے کہ آرام کی حالت میں ہونے والا پاؤں یا انگلیوں میں ایسا درد جو چلنے پھرنے یا پاؤں پر وزن ڈالے بنا بھی محسوس ہو وہ دل کی بیماری کی علامت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق تقریباً ہر 100 میں سے ایک شخص اپنی زندگی میں کبھی نہ کبھی اس قسم کے درد کا شکار ہو سکتا ہے، اگرچہ آرام کی حالت میں ہونے والا درد بعض اوقات خود بھی ہو سکتا ہے یا پاؤں کی مختلف بیماریوں کے نتیجے میں پیدا ہو سکتا ہے، لیکن یہ کرونِک لِمب تھریٹننگ اِسکیمیا کی علامت بھی ہو سکتا ہے، جسے پہلے کریٹیکل لِمب اِسکیمیا کہا جاتا تھا۔
یہ تکلیف، پیریفیرل آرٹری ڈیزیز کی ایک انتہائی سنگین اور آخری مراحل میں پہنچنے والی حالت ہے، پیریفیرل آرٹری ڈیزیز اس وقت ہوتی ہے جب شریانوں میں چربی اور پلاک جمع ہونے لگتا ہے، جس سے خون کی نالیاں تنگ ہو جاتی ہیں اور ٹانگوں اور پاؤں تک خون کی روانی محدود ہو جاتی ہے۔
سی ایل ٹی آئی میں پلاک کا شدید اجتماع ٹانگوں، پاؤں یا انگلیوں تک خون کی فراہمی کو بہت زیادہ کم کر دیتا ہے، سی ایل ٹی آئی کی وجہ سے آرام کی حالت میں درد محسوس کرنے والے افراد اگر بروقت علاج نہ کروائیں تو ان میں ایسے زخم یا السر پیدا ہو سکتے ہیں جو ٹھیک نہیں ہوتے۔
اس کے علاوہ جسم کے ٹشوز کے مرنے اور سنگین صورتوں میں ٹانگ یا پاؤں کاٹنے کی نوبت بھی آسکتی ہے، چونکہ پیریفیرل آرٹری ڈیزیز، سی ایل ٹی آئی کی وجہ سے ہوتی ہے، اس لیے پی اے ڈی سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے فوری علاج ضروری ہے، ان پیچیدگیوں میں دل کا دورہ اور فالج جیسے جان لیوا قلبی واقعات بھی شامل ہیں۔
جرنل آف ویسکیولر سرجری کے مطابق آرام کی حالت میں درد کی شکایت کے ساتھ آنے والے تقریباً 80 فیصد مریض تشخیص کے 10 سال کے اندر موت کا شکار ہو سکتے ہیں، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ٹانگوں کی شریانوں میں پلاک کا شدید جمع ہونا پورے جسم میں موجود قلبی شریانوں کی رکاوٹوں اور سی ایل ٹی آئی کی پیچیدگیوں سے مضبوطی سے منسلک ہے۔
آرام کی حالت میں ہونے والے درد کی علامات کو ابتدائی مرحلے میں پہچان لینا بہت اہم ہے، کیونکہ بر وقت تشخیص اور علاج سے فوری اور مؤثر طبی یا جراحی مداخلت ممکن ہو سکتی ہے اور موت کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔