خلاصہ
- لوئر دیر: (دنیا نیوز) تحصیل ادینزئی کے پہاڑی علاقوں برمکے، بوچکے اور شادام میں پراسرار بیماری سے 7 افراد جاں بحق ہوگئے، جاں بحق افراد میں دو خواتین اور پانچ بچے شامل ہیں۔
اہل علاقہ کے مطابق گزشتہ 16 سال سے اسی ماہ پراسرار بیماری کے باعث ہلاکتیں ہوتی رہی ہیں، درجنوں بچے چکدرہ اور سوات کے ہسپتالوں میں بھی زیر علاج ہیں۔
ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد نیاز آفریدی کے مطابق ابتدائی رپورٹ کے مطابق برمکے میں جاں بحق ہونے والے دو بچے پری میچور تھے، بوچکے کے دو نوجوان گردن توڑ بخار کے باعث پشاور میں زیر علاج تھے جبکہ جاں بحق ہونے والی خاتون ٹی بی کی مریضہ تھی۔
محکمہ صحت کے مطابق بوچکے سے تیز بخار اور فیبرایل بیماری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، متاثرہ علاقوں سے محکمہ صحت کی ٹیموں نے مختلف سیمپلز اکٹھے کیے ہیں، رپورٹس کا انتظار ہے۔
ڈی ایچ او ڈاکٹر محمد نیاز آفریدی نے بتایا کہ بوچکے اور برمکے میں ڈینگی اور ملیریا سے بچاؤ کیلئے سپرے کیا جاچکا ہے، محکمہ صحت، لائیو سٹاک اور پبلک ہیلتھ پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
ڈی ایچ او کے مطابق علاقے میں فی الحال کوئی ہنگامی صورتحال نہیں، ہسپتال میں مریضوں کے داخل ہونے کی اطلاع بھی نہیں، اموات کی حتمی وجہ مختلف سیمپلز کی رپورٹس اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد واضح ہوگی۔