خلاصہ
- لاہور کا امن تار تار، بیدیاں روڈ خودکش حملے کا زخمی ایک اور جوان دم توڑ گیا، پاک فوج کے چار جوانوں اور پاک فضائیہ کے اہلکار سمیت سات افراد شہید، پندرہ زخمی، چار شہداء کی نماز جنازہ ادا۔
لاہور: (دنیا نیوز) صوبائی دارالحکومت پر بزدل دہشتگردوں نے ایک اور وار کر دیا۔ صبح 7 بجکر 45 منٹ پر بیدیاں روڈ پر مردم شماری ٹیم کو نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج کے جوان اور محکمہ تعلیم کے اساتذہ مردم شماری کیلئے وین میں نکل رہے تھے کہ گھات لگائے خودکش بمبار نے گاڑی کے قریب پہنچ کر خود کو اڑا لیا۔
دھماکے سے قریب کھڑی گاڑیوں اور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ حملے میں شہید پاک فوج کے جوانوں کو عبد اللہ، ساجد، اویس اور ارشاد کے ناموں سے شناخت کیا گیا۔ حملے کے بعد کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل صادق علی نے دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا۔ پنجاب رینجرز کے ونگ کمانڈر بھی جائے وقوعہ پر پہنچے۔ فوج، رینجرز، سی ٹی ڈی اور پولیس حکام نے علاقے کو سیل کر کے شواہد اکٹھے کئے۔
پنجاب حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لئے سیکرٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی پولیس اور ایس پی سی ٹی ڈی پر مشتمل کمیٹی بنا دی ہے۔
حملہ آور نے پیدل آ کر وین کے پیچھے دھماکہ کیا۔ دھماکے میں 8 سے 10 کلو بارود استعمال کیا گیا۔ رپورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کر دی گئی۔ گاڑی مقررہ راستے سے ہٹا کر کیوں روکی؟ زیرحراست ڈرائیور سے پوچھ گچھ شروع ہو گئی۔ مقدمہ درج کر لیا گیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے لاہور دھماکے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملٹری کورٹس پر کئے گئے وعدے پورے کرے، لاہور کے عوام کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔