آئندہ انتخابات کا بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے انعقاد چیلنج سے کم نہیں

آئندہ انتخابات کا بائیو میٹرک سسٹم کے ذریعے انعقاد چیلنج سے کم نہیں

اسلام آباد: (دنیا نیوز) انتخابی اصلاحات کے بعد آئندہ عام انتخابات، بائیو میٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے کرانے کا کہا جا رہا ہے مگر حقیقت میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ نوے ارب کے اس منصوبے کیلئے ایک روپیہ بھی نہیں اور وقت بھی نکلتا جا رہا ہے۔ بائیو میٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کامیابی تو بعد کا مرحلہ ہے انکی درآمد بھی کسی چیلنج سے کم نہیں۔ ملک بھر کے اسی ہزار پولنگ سٹیشنز کیلئے تین لاکھ بائیو میٹرک ویریفکیشن مشینیں اور تین لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں درکار ہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق بائیو میٹرک مشین کی قیمت تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی قیمت ایک لاکھ اسی ہزار روپے سے زائد ہے۔ منصوبے پر اسی سے نوے ارب روپے تک لاگت آئے گی۔ مشینوں کی تیاری کیلئے ایک سال کا وقت چاہئے۔ تاہم ہر گزرتا دن منصوبے کے قابل عمل ہونے پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔

پریذائیڈنگ آفیسر کنٹرول یونٹ کا بٹن دبا کر ووٹر کو بیلٹ یونٹ پر ووٹ کاسٹ کرنے کی اجازت دے گا۔ ووٹر کو ووٹر ویریفائیڈ پیپر آڈٹ ٹریل کے ذریعے بتایا جائے گا کہ اس نے اپنے مرضی کے امیدوار کو ووٹ کاسٹ کر دیا مگر خدانخواستہ پولنگ سٹیشن پر قبضے کی صورت میں ایسی کوئی حکمت عملی تیار نہیں کی جا سکی کہ ان مشینوں کو غلط استعمال سے بچایا جا سکے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مشینوں کی درآمد کے بعد ایک اور بڑا مسئلہ عملے کی تربیت اور اور عوام کو آگاہی دینا ہے۔ بائیو میٹرک اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابات کیلئے حکومت ابھی تک انتخابی اصلاحات کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں کرا سکی۔ آئندہ عام انتخابات میں تقریباً ایک سال بچا ہے اور یہ منصوبہ اب تک پائلٹ پروجیکٹ کی پہلی منزل بھی طے نہیں کر سکا۔