تازہ ترین
  • بریکنگ :- پی ٹی آئی توشہ خانہ اورفنڈنگ کیس میں بری طرح پھنس گئی تھی،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- ان چیزوں سےدھیان ہٹانےکےلیےایک بیانیہ بنایاگیا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- اطلاعات کےمطابق ایک نجی چینل کیساتھ مل کرباقاعدہ سازش کی گئی،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- نجی چینل کی انتظامیہ کوباقاعدہ سازش میں شامل کیاگیا،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- شہبازگل نےجوبیان دیاوہ دہرانابھی قومی مفادمیں نہیں،راناثنااللہ
  • بریکنگ :- پاک فوج کےڈسپلن کی پوری دنیا قائل ہے،وزیرداخلہ راناثنااللہ
  • بریکنگ :- سانحہ لسبیلہ کےحوالےسےسوشل میڈیاپرپروپیگنڈاکیاگیا،راناثنااللہ

یقین دلاتا ہوں افغان امن عمل میں بھرپور کردار ادا کریں گے: وزیراعظم

Last Updated On 24 July,2019 02:19 am

واشنگٹن: (دنیا نیوز) وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان میں امن عمل کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے نقطہ نظر کو سمجھنے پر ان کا دل کی گہرائی سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پرجوش استقبال اور شاندار مہمان نوازی پر بھی ان کی تعریف کی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے مختلف حصوں کے دورے کے لیے ٹرمپ کی مہمان نوازی کو سراہتا ہوں۔

اپنے ٹویٹس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں گزشتہ چار دہائیوں کی بدامنی کا خاتمہ دنیا پر واجب ہے، میں صدر ٹرمپ کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ افغانستان میں امن عمل کیلئے بھرپور کردار ادا کریں گے۔

 

انہوں نے لکھا کہ مسئلہ کشمیر پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی۔ کشمیریوں کی نسلیں اذیت سے گزری ہیں اور آج بھی گزر رہی ہیں۔ مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کو ایک میز پر لانے کی کوشش کی لیکن امریکی صدر کی ثالثی کی پیشکش پر بھارتی رویہ حیران کن ہے۔ مسئلہ کشمیر کے باعث خطہ 70 سال سے یرغمال بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر پر ایک میز پر لانے کی کوشش کی۔

 

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی عمران خان سے تاریخی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

یاد رہے کہ گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیساتھ تاریخی ملاقات ہوئی تھی جس میں صدر ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں رہنما اس کیلئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا خیال ہے بھارت اور پاکستان اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں، اگر میں اس میں مدد کر سکتا ہوں، تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔

 

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ دو ہفتے پہلے وزیراعظم مودی نے مجھ سے ملے اور مسئلہ کشمیر پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ثالثی کریں، میں نے پوچھا، کہاں؟ مودی نے کہا، کشمیر پر، کیونکہ یہ مسئلہ کئی سال سے زیر التوا ہے۔

اس موقع پر مسئلہ کشمیر کے ایشو پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہم بھارت کیساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں، اگر صدر ٹرمپ کشمیر مسئلے پر ثالثی کا رول ادا کریں گے تو کروڑوں لوگوں کی دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی۔

انہوں نے صدر ٹرمپ کو بتایا کہ کشمیر مسئلے کے حل کے لیے بھارت کو کئی بار مذاکرات کی آفر کی، امریکا کشمیر مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان میں اب ہماری بہت مدد کر رہا ہے۔ دہشتگردی کیخلاف دونوں ملکوں نے مل کر جنگ لڑی۔ امید ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کیساتھ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر بات جاری ہے۔ افغان مسئلے کے حل کیلئے پاکستان کے پاس وہ پاور ہے جو کسی اور ملک کے پاس نہیں ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان جنگ کے دوران صف اول ملک کا کردار ادا کیا، ہم پاکستان کیساتھ مل کر افغانستان سے نکلنے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، مجھے امید ہے کہ ہم افغان امن عمل میں کسی نیتجے پر پہنچ جائیں گے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کیلئے امریکا انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکا اور پاکستان پارٹنر رہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، افغان جنگ سے لاکھوں لوگ متاثر ہو چکے ہیں، افغانستان مسئلے کا حل صرف امن مذاکرات سے ہوگا۔ ہمارا کردار طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ ہم افغان امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا سے 70 سالہ تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں گے۔ امریکا سے ٹریڈ بڑھانا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان افواج کی قربانیوں کو سراہا جانا چاہیے۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف ستر ہزار قربانیاں دیں، میں پہلے دن سے افغانستان میں فوجی آپریشن کا مخالف تھا۔ دہشت گردی سے پاکستانی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔