تازہ ترین
  • بریکنگ :- سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کےدرمیان تحریری معاہدہ
  • بریکنگ :- جماعت اسلامی کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان،کارکنان گھروں کو روانہ
  • بریکنگ :- کراچی: آج کے اعلان کیے گئے دھرنے بھی ختم کر دیئے ہیں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ کو تاریخی جدوجہد کرنے پرمبارکباد پیش کرتا ہوں،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آپ نے ساڑھے تین کروڑ عوام ہی نہیں پورے ملک کو حیران کردیا،حافظ نعیم
  • بریکنگ :- ہم استقامت کے ساتھ 29 دن دھرنے پر بیٹھے رہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت اور جماعت اسلامی نے مل کر ایک مسودہ بنایا ہے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- کراچی:2021 کا ترمیمی بل اب ختم ہو جائےگا،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- آج میڈیا کے سامنے وزیر بلدیات نے ہمارے مطالبات تسلیم کیے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- ہم اس معاہدے پر عمل بھی کروائیں گے،حافظ نعیم الرحمان
  • بریکنگ :- سندھ حکومت تعلیمی ادارے اور اسپتال بلدیہ کو واپس کرنے پر تیار،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- آکٹرائے اور موٹر وہیکل ٹیکس میں سےبھی بلدیہ کراچی کو حصہ ملے گا،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- کراچی: مئیر کراچی واٹر بورڈ کے چیئرمین ہوں گے،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- بلدیہ کو خود مختار بنانے کیلئےمالی وسائل دینےپر سندھ حکومت تیار، ناصر حسین
  • بریکنگ :- کراچی: بلدیاتی قانون پر جماعت اسلامی اور سندھ حکومت کے مذاکرات کامیاب
  • بریکنگ :- کراچی:صوبائی فنانس کمیشن کے قیام پر رضامندہیں،ناصر حسین شاہ
  • بریکنگ :- مئیر اور ٹاؤن چیئرمین کمیشن کے ممبر ہوں گے،ناصر حسین شاہ

ایف اے ٹی ایف کی شرط: ریئل اسٹیٹ کاروبار کو دستاویزی بنانے کا فیصلہ

Last Updated On 08 October,2019 10:46 am

اسلام آباد: (دنیا نیوز) حکومت پاکستان نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ایک اور کڑی شرط پوری کرنے کی تیاری کرلی اور ریئل سٹیٹ شعبے میں کالا دھن روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اعلی سرکاری ذرائع نے دنیا نیوز کو بتایا کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر وفاقی ادارے اور محکمے رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام میں تعاون کریں گے، ریگولیٹری اتھارٹی رئیل سٹیٹ کاروبار کو دستاویز بنائے گی، ریئل سٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں کیلئے اتھارٹی میں رجسٹریشن ضروری ہو گی۔

ذرائع کے مطابق سیکوریٹی اینڈ ایکس چینج کمیشن نے اتھارٹی کے قیام کا مسودہ تیار کرلیا اور امکان ہے کہ منظوری کے لیے کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر ٹیکس کے معاملات ریگولیٹری اتھارٹی کے دائرہ میں شامل نہیں ہوں گے۔