تازہ ترین
  • بریکنگ :- تحریک انصاف کا 25 مئی کو لانگ مارچ کا اعلان
  • بریکنگ :- 25 مئی کو 3 بجےسری نگرہائی وے پرملوں گا،عمران خان
  • بریکنگ :- ہرمکتبہ فکرکےلوگ لانگ مارچ میں شرکت کریں،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلیوں کی تحلیل اورشفاف الیکشن کی تاریخ چاہیے،عمران خان
  • بریکنگ :- اسمبلی تحلیل اورالیکشن کی تاریخ ملنےتک اسلام آباد رہیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- بیوروکریسی نےغیرقانونی کارروائی کی توایکشن لیں گے ،عمران خان
  • بریکنگ :- فوج کوکہتاہوں آپ نیوٹرل ہیں،نیوٹرل ہی رہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم نےجیل سےنہیں ڈرنا،جان کی قربانی دینی ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- باربارکہا جاتاہے جان کو خطرہ ہے،کوئی خطرہ نہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم جان کی قربانی دینے کیلئے تیارہیں،عمران خان
  • بریکنگ :- غلام بننے سے بہتر موت قبول ہے،عمران خان
  • بریکنگ :- ہم چوروں کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- خوف ہےیہ لوگ پٹرول ،ڈیزل ،انٹرنیٹ بندکردیں گے،عمران خان
  • بریکنگ :- انٹرنیٹ،پٹرول ،ٹرانسپورٹ بندہو گی،پہلےسےتیاری رکھیں،عمران خان

’کورونا وائرس سے صورتحال تشویشناک، پاکستانیو! جاگو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے‘

Last Updated On 07 April,2020 09:31 pm

کراچی: (دنیا نیوز) ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اپنے ایک اہم ویڈیو بیان اور ٹویٹ کے ذریعے کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز اور تشویشناک صورتحال سے عوام کو آگاہ کیا ہے۔

بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کا ٹویٹ میں کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلا کورونا پازیٹو کیس 26 فروری کو رپورٹ ہوا، اس کے بعد 29 روز میں پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے شکار مریضوں کی تعداد ایک ہزار ہو گئی تھی۔

مرتضیٰ وہاب نے لکھا کہ پچھلے سات روز میں پاکستان میں کورونا پازیٹو کی تعداد دو ہزار تک پہنچ گئی، جبکہ پانچ روز میں یہ تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

ان کا سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ غالباً تین روز میں کورونا وائرس کے شکار مریضوں کی تعداد چار ہزار تک پہنچ جائیگی۔ اندازہ کریں کہ صورتحال کتنی سنگین اور پریشان کن ہے۔

 

انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانیو! جاگو اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔ بعد ازاں ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ہمیں وفاقی حکومت کے چودہ اپریل تک کے لاک ڈاؤن پر موثر عملدرآمد کرنا ہے اور ہمیں خود کو بچاتے ہوئے دوسروں کو بھی محفوظ رکھنا ہے۔

 

ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ صوبے میں لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کرایا جا رہا ہے لیکن اسے مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ شہری حکومت کا ساتھ دیں اور احتیاطی تدابیر اپنائیں۔ اس وقت سندھ میں دو سو ستر کورونا مریض صحیتاب ہو چکے ہیں۔ یہ لاک ڈاؤن اور خود کو آئسولیشن میں رکھنے سے ممکن ہوا۔ اس وبا سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اپنے گھروں پر رہیں۔