تازہ ترین
  • بریکنگ :- ہم نے آئی ایم ایف پروگرام کوبحال کیا ،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت بڑھ رہی ہے،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- پٹرول کی نئی قیمت 248روپے 74پیسے ہوگی،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12بجے ہوگا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- بجٹ میں امیرطبقے پرٹیکس لگایا ہے،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عمران خان نےآئی ایم ایف معاہدہ توڑکر 233ارب کانقصان کیا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عمران خان حکومت نے لیوی 4روپےمرحلہ واربڑھانےکااعلان کیاتھا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عمران خان معاہدے کے مطابق پٹرول ،ڈیزل پر 70روپےٹیکس ہوناچاہیے تھا،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- حکومت ڈیزل پر 5 ،پٹرول پر 10روپے ٹیکس لے رہی ہے،مفتاح اسماعیل
  • بریکنگ :- عمران خان نے آئی ایم ایف معاہدے کی خلاف ورزی کی،مفتاح اسماعیل

کورونا وائرس: سرحد پر باڑ بھی محبت کرنیوالوں کو ملنے سے نہ روک سکی

Last Updated On 08 April,2020 12:33 pm

برلن: (ویب ڈیسک) دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، یورپی یونین میں اس وقت مہلک وباء کے باعث ہزاروں افراد اپنی زندگی گنوا بیٹھے ہیں، تاہم اسی دوران کچھ خبریں جرمنی اور سوئٹزر لینڈ سے آئی ہیں جو کہ حیران کن ہیں، مہلک وباء کے باعث دونوں ممالک کی سرحدوں علاقے کونسٹینس اور کروز لنگن میں شہری سرحدوں پر ملاقات کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی رفتار سست بنانے کے لیے ان دنوں جرمنی اور سوئٹزرلینڈ نے اپنی مشترکہ سرحد کو بند کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے جرمنی کے شہر کونسٹینس اور سوئٹزرلینڈ کے شہر کروزلنگن کو سرحدی باڑ کے ذریعے علیحدہ کیا گیا ہے۔

کونسٹینس شہر کے ساحل پر بنے تفریحی مقام پر جرمنی اور سوئٹرزلینڈ دونوں جانب کے لوگ آزادی کے ساتھ اس سرحدی پٹی کے راستے نقل و حرکت کرتے تھے جو نظر نہیں آتی۔ تاہم اب سب کچھ بدل چکا ہے۔ جرمنوں کی اکثریت سوئٹزرلینڈ نہیں جا سکتی جبکہ سوئٹزرلینڈ کے زیادہ تر باشندے جرمنی میں داخل نہیں ہو سکتے۔

اس سرحدی پٹی پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گئی۔ لوگوں نے دھات کی باڑ کے دونوں اطراف کھڑے ہو کر ایک دوسرے کو چھوئے بغیر صرف زبانی طور پر اپنی چاہت اور محبت کا اظہار کیا۔ کڑی دھوپ میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے والوں میں پیار کرنے والوں کے علاوہ والدین اور ان کے بچے، بہن بھائی اور پرانے دوست شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ’کورونا وائرس بھی پیار کرنے والوں کو دور نہ کر سکا‘

سوئس شہری جان بیئر والٹر نے بتایا کہ وہ زیورچ سے ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد یہاں آئے ہیں تا کہ اپنی جرمن ساتھی خاتون مایا بولیچ سے ملاقات کر سکے۔ بولیچ بھی اڑھائی گھنٹے تک گاڑی چلا کر ہائڈل برگ کی جانب سے سرحد پر پہنچی تھی۔

کورونا وائرس کے سبب سرحدی علاقہ خالی اور سنسان ہو گیا ہے۔ باڑ مارچ کے وسط میں لگائی گئی۔ اب یہ مقام اُن لوگوں کی ملاقات کا پوائنٹ بن چکا ہے جن کو کورونا کی وبا نے ایک دوسرے سے دُور کر دیا۔

واضح رہے کہ سوئٹزرلینڈ یورپی یونین کا رکن ملک نہیں ہے۔ تاہم بعض سمجھوتوں کے تحت سوئس شہریوں اور یورپی یونین بلاک کے شہریوں کو نارمل حالات میں بنا کسی قید سفر کی اجازت ہوتی ہے۔

گزشتہ ماہ سرحدی پٹی پر ایک باڑ لگائی گئی تھی۔ تاہم بعد بھی لوگ وہاں بیٹھ کر مشروبات کا تبادلہ کر رہے تھے ، تاش کھیل رہے تھے اور آپس میں معانقہ بھی کر لیتے تھے۔ اسکے نتیجے میں ذمے داران نے کچھ فاصلے سے دوسری باڑ بھی نصب کر دی۔

سوئٹزرلینڈ میں کورونا وائرس سے اب تک 787 افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔ ادھر جرمنی میں کورونا سے تقریبا ایک لاکھ تین ہزار متاثر ہو چکے ہیں۔ 1810 افراد دنیا سے رخصت ہو گئے۔

اس وقت جرمن اور سوئس شہریوں میں صرف اُن لوگوں کو سرحد پار کرنے کی اجازت ہے جو دوسرے ملک میں کام کرتے ہیں۔ ان کے سوا بقیہ تمام افراد کے لیے سرحد پار جانا ممنوع ہے۔