عوام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، بندشیں کم کی جا سکتی ہیں، وفاقی وزیر اسد عمر

عوام احتیاطی تدابیر پر عمل کریں، بندشیں کم کی جا سکتی ہیں، وفاقی وزیر اسد عمر

اسلام آباد میں وزیراعظم اور دیگر ٹیم کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ میں اسد عمر نے کہا کہ پہلے لگتا تھا صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی لیکن اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں حالات بہتر ہیں۔

تاہم انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتوں سے وینٹی لیٹرز پر 50 سے 60 مریض زیر علاج ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق آئندہ دنوں میں کورونا سے ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے غریب اور سفید پوش طبقے پر بوجھ پڑا ہے۔ وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ پیر یا منگل کو این سی سی کا اجلاس بلایا جائے۔ 9 مئی کے بعد کیا حکمت عملی ہوگی، فیصلہ اگلے ہفتے ہوگا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان میں حفاظتی سامان کی دستیابی کا مسئلہ ختم ہو گیا ہے۔ اگلے دس دنوں میں این 95 ماسک بھی بننا شروع ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ فرنٹ لائن ورکرز کے تحفظ کے لیے قومی پروگرام تشکیل دیا ہے۔ اس میں ڈاکٹرز کو ٹریننگ اور سپورٹ بھی دی جائے گی۔

ڈاکٹر فیصل نے بھی اس موقع پر میڈیا کو بریف کیا اور کہا کہ مغربی ممالک کی نسبت پاکستان میں صورتحال بہتر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم احتیاطی تدابیر کرنا چھوڑ دیں۔