ناقص کارکردگی کے باوجود حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

ناقص کارکردگی کے باوجود حکومت کو کوئی خطرہ نہیں

وفاقی وزیر فواد چودھری کے انٹرویو میں حکومت کے اندرونی حالات بارے تحفظات کی ٹائمنگ اہم تھی جس نے حکومت کو الرٹ کر دیا، جس سے وزیراعظم سرگرم ہوئے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ شکایات اور تحفظات کا عمل وقتی یا ہنگامی نہیں۔ کھچڑی بہت پہلے سے پک رہی تھی، اراکین اسمبلی کی کوئی سننے والا ہے اور نہ ہی کوئی انکی شکایات کو لے کر آگے چلنے والاہے جس کی وجہ سے فرسٹریشن بڑھی ہے، معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ ایک دو ملاقاتوں میں حل ہو۔ فواد چودھری نے ایک  اوپن سیکرٹ  کہہ ڈالا۔ تحریک انصاف کے اندر عمران خان کی ذات کے سوا کوئی بھی دوسرا نظریہ یا بڑی شخصیت نہیں، جس پر اتفاق رائے ہو۔

پارٹی میں دھڑے بندی کافی عرصے سے جاری تھی۔ جوں جوں حکومت کی کارکردگی بارے تاثر کمزور ہوتا جائیگا، اختلاف رائے بڑھتا جائے گا اور پارٹی کے اندر سیاسی انارکی کی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ درحقیقت یہ سارا قصہ تحریک انصاف کے اندر نمبر 2 بننے کی دوڑ کا نتیجہ ہے۔ بری کارکردگی میں پھنسی حکومت پر اندر سے دباؤ پہلے مرحلے میں بڑھ رہا ہے۔ غلام سرور خان، فواد چودھری، راجہ ریاض اور خواجہ شیراز کا لب و لہجہ سب کچھ بتا رہا ہے۔ حکومت کے اقتدار کا موسم بہار اب سخت موسم میں داخل ہو رہا ہے۔ گورننس میں ناکامی اور بری طرز حکمرانی نے حکومتی پویلین میں میچ ہار جانے کے بعد کے منظر پیدا کر دیے ہیں۔ اس اختلاف رائے کے بعد غیر منتخب مشیروں کے کلچر کو روکنا ہوگا۔ عمران خان کی مشکل یہ ہوگی کہ اگر سیاسی لوگوں کو راضی رکھتے ہیں تو پھر ان کا غیر منتخب لوگوں پر انحصار کم یا ختم ہوتا جائے گا۔ مگر اسکی سب سے بھاری قیمت سول ملٹری کے  سیم پیج  کو ادا کرنی پڑے گی۔ اس وقت بری حکمرانی میں پھنسی حکومت کیلئے دونوں فریقوں کو راضی رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ تمام صورتحال بتا رہی ہے کہ بری طرز حکمرانی پرحکومت کومعافی ملناتقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔