تازہ ترین
  • بریکنگ :- ترجمان دفترخارجہ کی صحافیوں سےغیررسمی گفتگو
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کونسل کااجلاس 19دسمبرکواسلام آبادمیں ہوگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اسلامی ممالک کےوزرائےخارجہ کوشرکت کی دعوت دی گئی، ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں سلامتی کونسل کےمستقل ارکان کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- یورپی یونین،اقوام متحدہ اوراس کی امدادی ایجنسیوں کوشرکت کی دعوت،ترجمان
  • بریکنگ :- اجلاس میں افغانستان کااعلیٰ سطح وفدشرکت کرےگا،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی سیکرٹریٹ کےآفیشلزاجلاس کی تیاریوں کاجائزہ لیں گے،ترجمان
  • بریکنگ :- اوآئی سی وزرائےخارجہ کاغیرمعمولی اجلاس 1980میں ہواتھا،ترجمان
  • بریکنگ :- 41سال بعدپاکستان افغانستان پراوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس کی میزبانی کررہاہے
  • بریکنگ :- افغانستان کوامدادنہ پہنچائی گئی تومعاشی بحران جنم لےسکتاہے، ترجمان

گستاخانہ خاکے، فیصل جاوید پارلیمانی گروپ برائے پاک فرانس دوستی سے مستعفی

Published On 29 October,2020 08:07 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سینیٹر فیصل جاوید خان نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور اسلام مخالف اقدامات پر پارلیمانی گروپ برائے پاک فرانس دوستی سے مستعفی ہوگئے۔

سینیٹر فیصل جاوید خان نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ فرانسیسی صدر کے اقدامات سے اسلاموفوبیا کو تقویت ملے گی جیسا کہ وزیراعظم نے بھی نشاندہی کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام مخالف بیانات اور مقدس ہستیوں کی توہین انسانیت کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرے گی اور شدت پسند خیالات کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔

سینیٹر فیصل جاوید نے کہا ہے کہ اس سلسلے کو بند ہونا چاہیے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت اس پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔ فرانسیسی صدر کے اقدامات انسانیت کو نازی نظریے سے زیادہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور پھر اس کے حق میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے بیان کے بعد دنیا بھر میں فرانس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اور مسلم ممالک میں فرانسیسی اشیاء کے بائیکاٹ کی مہم چل رہی ہے۔

پاکستان نے بھی فرانس کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور گزشتہ روز پارلیمنٹ سے مذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی ہے جبکہ پاکستان نے فرانسیسی سفیر کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا۔