تازہ ترین
  • بریکنگ :- ایم کیو ایم پاکستان کا کل یوم سیاہ منانے کا اعلان
  • بریکنگ :- ایم کیو ایم کا وزیراعلیٰ سندھ سے استعفے کا مطالبہ
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ استعفیٰ دیں ورنہ شہرکےدروازےبندکردیں گے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- وزیراعظم آئی جی اورڈی آئی جی کومعطل کریں،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- وزیراعظم کو فوری کراچی آنا چاہیے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی نے ہمیں دوبارہ للکارا ہے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ڈاکو کراچی پر مسلط ہیں،رہنما ایم کیو ایم خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ایم پی اےصداقت حسین پرتشددکاحساب لیا جائے گا،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ہماری ماؤں،بہنوں پرڈنڈے برسائے گئے،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ہم پاکستان کی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں،خالدمقبول صدیقی
  • بریکنگ :- ہم جمہوریت کوواحد راستہ سمجھتےہیں،خالدمقبول صدیقی

ترک قومی اسمبلی نے فرانسیسی صدر میکرون کو ملعون قرار دے دیا

Published On 28 October,2020 05:48 pm

انقرہ: (ویب ڈیسک) ترکی کی قومی اسمبلی کی جنرل کمیٹی نے سپیکر آفس کے پیش کردہ اور اسلام مخالف بیانات کی وجہ سے فرانس کے صدر میکرون کو ملعون قرار دینے سے متعلق میمورینڈم کو منظور کر لیا ہے۔

ترک خبر رساں ادارے ’ٹی آر ٹی ‘ کے مطابق میمورینڈم میں اسلام مخالف روّیوں کے خلاف ہر ایک سے عقل سلیم سے کام لینے کی اپیل کی گئی ہے۔

میمورینڈم میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی قومی اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں کی حیثیت سےہم فرانس کے صدر کے اسلام، اس کے عزیز پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰﷺ اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز ، گستاخانہ اور خطرناک بیانات پر شدت سے لعنت بھیجتے اور انہیں مسترد کرتے ہیں۔

میمورینڈم میں کہا گیا ہے کہ قابل توجہ پہلو، جمہوریت، حقوقِ انسانی، قانون کی بالادستی اور جمہور سے متعلق بلاغت و خطابت کا نسلیت پرستی اور اسلام دشمنی میں تبدیلی کے زہریلے ماحول کی اِکّا دُکّا مثالوں سے نکل کر حکومتی سربراہان اور سیاستدانوں کے وسیلے سے جائز حیثیت حاصل کرنا اور رواج پانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلا دیش: گستاخانہ خاکوں کیخلاف ہزاروں شہریوں کا احتجاج، فرانس مخالف نعرے

دریں اثناء ترکی نے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو کی جانب سے صدر رجب طیب اردوان کے خاکے کو سرورق پر چھاپنے کی مذمت کرتے ہوئے قانونی کارروائی کااعلان کیا ہے۔

ترک صدارتی دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کا خاکہ چھاپنے پر ضروری قانونی اور سفارتی کارروائی کرینگے۔ صدارتی دفتر نے اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چارلی ہیبڈو کا یہ اقدام ترکی اور اسلام سے عداوت کے سوا کچھ نہیں۔

انقرہ کے اٹارنی دفتر نےصدر ایردوان کے خاکےکی اشاعت کیخلاف جریدے کے مدیر اعلی لارینٹ سوریسو، ایڈیٹر انچیف جیرارڈ بیارڈ اور خاکہ نویس الیس پیتیت کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ترک صدر نے اس میگزین کے فرنٹ پیج پر بنائے جانے والے اپنے کارٹون کو شارلی ایبدو کی  بدمعاشی‘ قرار دیا ہے۔

صدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک مکروہ حملہ ہے، مجھے ان بد ذاتوں کے بارے میں کہنے کی کچھ ضرورت نہیں ہے، جنہوں نے میرے پیغمبر کی بے حرمتی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترک صدر کی اپنے عوام سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل

اس سے قبل عید میلاد النبیﷺ کے افتتاحی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے اپنے عوام سے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی ناموس کا تحفظ اور اسلامو فوبیا ہماری قومی سلامتی کا مسئلہ ہے، ان اقدامات کو فاشزم قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے فرانسیسی صدر میکرون کے اسلام مخالف بیانات کے جواب میں عالمی سربراہوں سے درخواست کی کہ اگر فرانس میں مسلمانوں کے خلاف ظلم روا رکھا جا رہا ہے تو آئیے مل کر اس کی تلافی کریں۔

اردوان نے فرانس پر اس وقت ذہنی طور پر مفلوج ایک شخص کی حکمرانی ہے جس نے دین اسلام پر بد کلامی اور بے حرمتی کا بازار گرم کر رکھا ہے میری ترک عوام سے گزارش ہے کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

انہوں نے برلن میں گزشتہ ہفتے ایک مسجد پر پولیس چھاپے سے متعلق چانسلر مرکل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ جرمنی میں تو آذادی مذہب کا کافی پرچار ہوتا ہے اور جسے وہاں سرکاری سر پرستی بھی حاصل ہے تو کیا وجہ ہے کہ جرمن پولیس کے ایک سو اہلکار نماز فجر کے وقت مسجد پر دھاوا بول دیتے ہیں ،کیا کسی نے ترکی میں اس قسم کی حرکات کا مشاہدہ یا تجربہ حاصل کیا ہے نہیںٖ: کیونکہ صحییح معنوں میں دینی آزادی کا اطلاق ہمارے یہاں ہے۔

صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام اور مسلم دشمنی کی سر پرستی اب یورپی رہنماوں کے منشور میں شامل ہو چکی ہے، یورپی رہنما فاشسٹ ہیں اور حقیقی معنوں میں نازی ازم کی کڑی ثابت ہو رہے ہیں،حالیہ ایام میں پیش آئے واقعات ، صدارتی عہدے پر فائز سربراہوں کی بد تہذیبی اور نماز فجر کے وقت مسجد پر پولیس کا دھاوا ہمارے لیے غیر معمولی واقعات نہیں ہیں بلکہ ہم 60 لاکھ کی مسلم آبادی کے حامل ملک کے صدر کو خبردار کر رہے ہیں کہ اسلام دشمنی روا رکھنے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے بلکہ تباہی مقدر بن جائے گی ۔