تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اتحادیوں کااجلاس
  • بریکنگ :- فوری الیکشن کی تاریخ دینےکاعمران خان کامطالبہ مسترد،ذرائع
  • بریکنگ :- حکومت 2023 تک اپنی مدت پورےکرےگی،تمام جماعتوں کامتفقہ فیصلہ
  • بریکنگ :- تمام اتحادی جماعتوں نےوزیراعظم کےفیصلےکی توثیق کردی،ذرائع
  • بریکنگ :- اتحادیوں کاالیکشن سےقبل اصلاحات کاعمل جلدمکمل کرنےپرزور،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعظم،اتحادیوں کامعیشت کی بحالی کیلئےفوری اقدامات کرنےکافیصلہ،ذرائع
  • بریکنگ :- اتحادیوں کی سیاسی بحران،معاشی استحکام کیلئےمکمل تعاون کی یقین دہانی
  • بریکنگ :- وزیراعظم نےروپےکی قدرمیں اضافےودیگرمعاشی امورپراعتمادمیں لیا
  • بریکنگ :- شرکانےعمران خان کی 4سالہ کارکردگی کی حقیقت عوام کےسامنےلانےپرزوردیا،ذرائع

شہباز شریف اور حمزہ کی رہائی کا معاملہ، درخواست وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیج دی گئی

Published On 23 November,2020 05:21 pm

لاہور: (دنیا نیوز) کابینہ کمیٹی برائے داخلہ نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پیرول پر رہائی کے معاملہ پر درخواست وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کو پہنچا دی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ کو 5 روز کے لئے پیرول پر رہائی دی جائے۔ محکمہ داخلہ پنجاب 2 روز سے زائد کا پیرول دینے کا مجاز نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کسی قیدی کو 2 روز سے زائد کی اجازت دینے کے مجاز ہیں۔

لیگی رہنماؤں کی رہائی کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے اعلیٰ سطح اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں درخواست کا جائزہ لیا جائے گا۔ محکمہ داخلہ کے حکام وزیراعلیٰ کو پیرول سے متعلق رولز کے بارے بریف کریں گے۔ عثمان بزدار رولز کا جائزہ لینے کے بعد پیرول پر رہائی سے متعلق حتمی فیصلہ کریں گے۔

ادھر صدر مسلم لیگ (ن) پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ شریف فیملی اور پاکستانیوں کیلئے بیگم شمیم کا انتقال افسوسناک ہے۔ ماں کی دعا کی ضرورت تو انبیائے کرام کو بھی رہی ہے۔ نواز شریف اور شہباز شریف دکھ میں مبتلا ہیں۔ پوری شریف فیملی بکھری ہوئی ہے اور بدترین انتقام کا سامنا کر رہی ہے۔

انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ کو رہا کر دے۔ دونوں رہنماؤں کو جعلی کیسز بنا کر جیل میں رکھوایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں افراد نے تعزیت کرنی ہے، ایک یا دو روز میں اتنے افراد تعزیت نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی گھر میں موجودگی ضروری ہے۔