تازہ ترین
  • بریکنگ :- ہمارےبہادرسپاہی دہشتگردوں سےمحفوظ رکھنےکیلئےجانوں کےنذرانےپیش کررہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- 10شہیدجوانوں کوسلام پیش کرتاہوں جنہوں نےکیچ میں دہشتگردوں کےحملےکوپسپاکیا،ٹویٹ
  • بریکنگ :- پاکستان کوہرقسم کی دہشتگردی سےنجات دلانےکیلئےپرعزم ہیں،وزیراعظم

وفاقی کابینہ اجلاس:وزراکا پیٹرول انکوائری رپورٹ پرشدید ردعمل،سخت ایکشن کا مطالبہ

Published On 15 December,2020 04:46 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وفاقی وزرا نے کابینہ اجلاس میں پیٹرول بحران کی انکوائری رپورٹ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وزیراعظم نے آئل کمپنیوں کے لائسنس منسوخ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ملوث کمپنیوں کی تحقیقات ہوں گی۔

تفصیل کے مطابق وزیراعظم کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پٹرولیم بحران سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پیش کر دی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ میں انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر طویل بحث ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے انکوائری رپورٹ کی سفارشات کا جائزہ لینے کیلئے 3 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ شفقت محمود، شیریں مزاری اور اسد عمر کمیٹی میں شامل ہونگے۔ انکوائری رپورٹ پر کیا ایکشن لیا جائے؟ کمیٹی اس سلسلے میں اپنی سفارشات تیار کرے گی۔

دنیا نیوز ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران بعض وفاقی وزرا نے انکوائری رپورٹ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ذمہ داروں کیخلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کیا۔ وزارا نے سوالت کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول بحران آیا تو متعلقہ وزارتیں کہاں تھیں؟ ان کی کیا ذمہ داری تھی؟ کابینہ میں سوالات پر ندیم بابر وضاحتیں پیش کرتے رہے۔

وفاقی وزرا فیصل واوڈا اور علی زیدی سمیت متعدد وزرا نے سوال اٹھائے کہ تیل سستا ہوا تو ایکسپورٹ پر رکا کیوں رہا؟ جو کمپنیاں ملوث تھیں ان کے لائسنس منسوخ کیوں نہیں کئے گئے؟ جبکہ علی زیدی نے سخت سوالات پوچھتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ اجلاس میں 14 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے کی تعیناتی کی منظوری دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل نے قانونی معاملات، وفاق کی جانب سے صوبوں کو رقوم کی فراہمی اور وسائل، احساس کفالت پر سروے اور کورونا ریلیف فنڈ پر بریفنگ دی۔

کابینہ اجلاس میں ایف نائن پارک میں موجود میٹرو پولیٹن کلب کی عمارت کے استعمال پر قائم کمیٹی رپورٹ موخر کرنے جبکہ وزارت آئی ٹی کے ذیلی ادارے آئیگنائیٹ کے سی ای او کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔

اس کے علاوہ سوئی ناردرن اور سدرن گیس کمپنیوں کے مستقل ایم ڈیز کی تعیناتیوں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبران کی تقرریوں کی منظوری دی گئی۔

وفاقی کابینہ نے ایمپلائز اولڈ ایج بینفیٹس انسٹی ٹیوشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی تشکیل نو اور بیرون ملک پاکستان مشنز میں کمیونٹی ویلفئیر اتاشیوں کی تقرری کی منظوری بھی دی۔