تازہ ترین
  • بریکنگ :- اسلام آباد:پی ڈی ایم کاسربراہی اجلاس آج 3 بجےہوگا
  • بریکنگ :- اسلام آباد:مولانافضل الرحمان اجلاس کی صدارت کریں گے
  • بریکنگ :- لانگ مارچ اوران ہاؤس تبدیلی سمیت اہم امورپرغورکیاجائےگا
  • بریکنگ :- اسٹیئرنگ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں فیصلےمتوقع

اپوزیشن کو حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوج کی ضرورت نہیں: مریم نواز

Published On 26 December,2020 10:13 pm

سکھر: (دنیا نیوز)پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہمیں کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں کہ حکومت کو گھر بھیجو۔ اپوزیشن کو حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوج کی ضرورت نہیں۔

سکھر میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ پنجاب کے 160 ایم پی ایز نے استعفے مجھے دے دیئے ہیں۔ چند استعفے رہ گئے ہیں وہ بھی ایک دو دن تک آ جائیں گے۔ کسی نے شرارت سے دو استعفے سپیکر صاحب کے پاس بھیج دیئے، سپیکر کو کہتی ہوں سجاد اعوان اور مرتضیٰ جاوید عباسی کو بلائیں اور استعفے قبول کریں۔

 انہوں نے کہا کہ میں سجاد اعوان اور مرتضیٰ جاوید عباسی کو کہتی ہوں اگر سپیکر کہے کہ آؤ تصدیق کے لیے تو کہنا یہ پڑے ہیں اسے قبول کرو۔ تحریک انصاف نے 2014ء میں جوش میں استعفے دیئے تھے۔ ملک کی خاطر جان بھی دے سکتے ہیں۔ لوگ جانتے ہیں نواز شریف آ رہا ہے اور عمران خان جا رہا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم پوری طاقت سے حکومت کو گھر بھیجے گا، ن لیگ نے نئی تاریخ رقم کی، تم اپنے ایم این ایز کی فکر کرو کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جا رہا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا۔ ن لیگ کے کارکن نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انشاء اللہ نواز جلد واپس آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کارکنوں کو سلام پیش کرتی ہوں۔ مسلم لیگ ن کے بارے میں مشہور ہے کہ ہمیشہ حکومت بنانے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ن لیگ کے کارکنوں نے ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ مشکل حالات کے باوجود عوام نے ن لیگ کا ساتھ دیا۔

یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف بھائی کے وفادار نہ ہوتے تو آج وزیراعظم ہوتے: مریم نواز

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جب بھی ملکی ترقی کی بات آتی ہے تو نواز شریف کا نام آتا ہے۔ جب بھی ملک میں جمہوریت کی قربانیاں دینا کی بات ہو گی تو نواز شریف کا نام آئے گا کیونکہ سابق وزیراعظم نے تین بار اپنی حکومت اس مقصد کے لیے قربان کی۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ آج نواز شریف ملک میں نہیں ہے تو ملک میں بیروزگاری اور غربت ہے۔ عوام نواز شریف کو ڈھونڈ رہی ہے۔ آپ کا لیڈر جلد آپ کے درمیان ہو گا اور ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جعلی تبدیلی کا جو سفر شروع ہوا تھا، وہ تبدیلی اب گمنامی میں تبدیل ہو گی۔ اڑھائی سال کے بعد سیاسی مخالفین کو چور چور کہنے والا کہتا ہے میری تیاری نہیں تھی۔ جب تمہاری تیاری نہیں تو کیوں 22 کروڑ عوام کے ساتھ کھلواڑ کیا اور دوستوں کی جیبیں بھرنے کی آپ کی پوری تیاری تھی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ سونامی پہلے بدنامی اب گمنامی میں تبدیل ہو گی۔ آر ٹی ایس کا جعلی بٹن دبا کر تبدیلی آ سکتی ہے تو اڑھائی سال میں کیوں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ عمران خان تم منتخب نہیں ہو۔ عمران خان کی ایک ہی تعلیم ہے۔ وہ ہاتھ باندھ کر تابعداری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خود کو جمہوریت پسند کہنے والے فوج کو حکومت گرانے کا کہتے ہیں: وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ مریم نواز شریف کا مقابلہ کرنے کے لیے ٹی وی پر آواز بند کرنا پڑتی ہے، میری آواز بند کرنے کے لیے باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں کسی کو کہنے کی ضرورت نہیں کہ حکومت کو گھر بھیجو۔ اپوزیشن کو حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فوج کی ضرورت نہیں۔

اس سے قبل مریم نواز نے کہا کہ جعلی حکومت سے مذاکرات ہوں گے نہ ہی اسے این آر او دیں گے، حکومت پی ڈی ایم سے این آر او مانگ رہی ہے، حکمران کچھ بھی کرلیں اب انہیں گھر جانا ہوگا، شہباز شریف بھائی کے وفادار نہ ہوتے تو آج وزیراعظم ہوتے، علی درانی سے پہلے حکومتی وزرا کے پیغامات ملتے رہے، جیل میں ملاقات کیلئے دیگر لوگوں کا آنا حیران کن ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو نے جمہوریت کیلئے جان کی قربانی دی، شہید بی بی نے میثاق جمہوریت دیا، میثاق جمہوریت کے بعد پاکستان کی تاریخ تبدیل ہوگئی، میثاق جمہوریت کو سیاسی جماعتیں آگے لے کر بڑھیں گی، پاکستان کو اس وقت اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ وفادار ہیں، وہ پارٹی اور بھائی سے وفادار نہ ہوتے تو آج وزیراعظم ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی کے بھی 95 فیصد استعفے موصول ہوچکے، مرتضیٰ جاوید، سجاد اعوان حیران ہیں استعفے سپیکر تک کیسے پہنچ گئے، 31 دسمبر تک استعفے پارٹی قیادت کو جمع کرانے ہیں، بلاول جلسے میں نہیں آتے تو کہا جاتا ہے پی ڈی ایم میں دراڑ پڑ گئی، سینیٹ الیکشن میں حصہ لینے یا نہ لینے سے متعلق فیصلہ پی ڈی ایم کریگی۔