تازہ ترین
  • بریکنگ :- افسران واٹس ایپ پرچلتے رہے،تحقیقات میں انکشاف
  • بریکنگ :- افسران صورتحال کو سمجھ نہیں سکے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- افسران نےصورتحال کوسنجیدہ لیانہ کسی پلان پرعمل کیا ،رپورٹ
  • بریکنگ :- متعددافسران نے واٹس ایپ میسج تاخیر سے دیکھے ،رپورٹ
  • بریکنگ :- کمشنر، ڈی سی ،اے سی نےغفلت کا مظاہرہ کیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سی پی او،سی ٹی اوذمہ داریاں پوری کرنےمیں ناکام رہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- محکمہ جنگلات اور ریسکیو 1122کا مقامی آفس بھی کچھ نہ کرسکا
  • بریکنگ :- محکمہ ہائی وے بھی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا،رپورٹ
  • بریکنگ :- سانحہ مری کی رپورٹ 27 صفحات پر مشتمل ہے
  • بریکنگ :- 4 والیم پرمشتمل افسران اورمقامی لوگوں کے بیانات لیے گئے
  • بریکنگ :- تحقیقاتی کمیٹی کی مری میں محکمہ موسمیات کادفترقائم کرنےکی سفارش
  • بریکنگ :- مری کا ہل اسٹیشن تجاوزات کی وجہ سے گلیوں میں تبدیل ہوگیا،رپورٹ
  • بریکنگ :- غیر قانونی عمارتیں گرانےکی سفارش کی گئی ہے،رپورٹ
  • بریکنگ :- سانحہ مری ،متعلقہ محکموں کی غفلت ثابت
  • بریکنگ :- مشینری موجود تھی لیکن آدھا عملہ غائب تھا، رپورٹ

پی ڈی ایم نے حکومت کیخلاف لانگ مارچ ملتوی کرنے کا اعلان کردیا

Published On 16 March,2021 07:52 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت مخالف لانگ مارچ کو ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ اعلان پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اجلاس کے بعد ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 جماعتیں استعفوں پر متفق ہیں تاہم پیپلز پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ پیپلز پارٹی نے استعفوں کے معاملے پر مشاورت کیلئے وقت مانگا ہے۔ اس لئے پی ڈی ایم کا 26 مارچ کو ہونے والا لانگ مارچ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی وہ پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس میں استعفوں سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔ اجلاس کی تاریخ کا اعلان جلد ہوگا۔

مولانا فضل الرحمان کے اچانک ڈائس چھوڑنے کے بعد وہاں موجود صحافیوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں تو مریم نواز شریف نے مائیک پر آ کر کہا کہ میں یہاں آپ کے سوالوں کے جواب دینے کیلئے موجود ہوں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے اجلاس کے دوران درخواست کی کہ میاں صاحب! آپ بھی واپس آئیں مل کر جدوجہد کریں۔ اس موقع پر میں نے ان سے عرض کیا کہ میاں نواز شریف نے جیل میں انتہائی تکلیف دہ حالات کا سامنا کیا، انھیں قید کے دوران دل کا دورہ پڑا۔ ہمیں زندہ لیڈر چاہیں، ان کی لاشیں نہیں، کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے کہ انھیں وطن واپس بلائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نوازشریف کی ضرورت ہے۔ ہم پہلے ہی لیڈرز گنوا کر ملک وقوم کا نقصان کر چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے، جس نے نواز شریف سے بات کرنی ہے، پہلے مجھ سے بات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میاں صاحب کو قاتلوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔