تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس
  • بریکنگ :- وفاقی حکومت کافوجداری مقدمات کاقانون بدلنےکافیصلہ
  • بریکنگ :- فوجداری مقدمات میں ترمیم سمیت نئےقوانین لانےکی منظوری
  • بریکنگ :- آئینی ترامیم آئندہ ہفتےکابینہ میں پیش کی جائیں گی
  • بریکنگ :- ایف آئی آردرج نہ کرنے پر ایس پی کودرخواست دی جاسکے گی، فروغ نسیم
  • بریکنگ :- اسلام آباد: 9 ماہ میں مقدمات کافیصلہ لازمی ہوگا، فروغ نسیم
  • بریکنگ :- مقدمات کافیصلہ نہ ہونےپرمتعلقہ ججزہائیکورٹ کوجوابدہ ہوں گے،فروغ نسیم
  • بریکنگ :- 9ماہ میں ٹرائل مکمل کرنےپرججزکیخلاف ہائیکورٹ انضباطی کارروائی کرسکےگی، فروغ نسیم
  • بریکنگ :- تھانوں کواسٹیشنری،ٹرانسپورٹ سمیت ضروری اخراجات کے فنڈزملیں گے، فروغ نسیم
  • بریکنگ :- عام جرائم کےکیسزمیں 5 سال تک کی سزاکیلئےپلی بارگین کی جاسکےگی، فروغ نسیم

پیٹرول بحران: ندیم بابر عہدے سے فارغ، وزیراعظم نے استعفیٰ طلب کرلیا

Published On 26 March,2021 05:29 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر سے استعفیٰ مانگ لیا ہے، اس بات کی تصدیق وفاقی وزیر اسد عمر نے اپنی پریس کانفرنس میں کی۔

تفصیل کے مطابق گزشتہ سال ملک میں پیدا ہونے والے پیٹرولیم بحران کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت کی ہے، سیکرٹری پٹرولیم کو بھی عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی گئی، وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس بحران کی تحقیقات کی جائیں جو ایف آئی اے نے کیں، 90 دنوں میں ایف آئی اے فرانزک تحقیقات مکمل کرے گی۔

وفاقی وزرا شفقت محمود اور شیریں مزاری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پٹرول کا بحران پہلی بار نہیں ہوا تھا بلکہ اس سے پہلے بھی ہوا تھا، اب سے کئی سال قبل سردیوں میں بھی بحران آیا تھا اور پیٹرول پمپ کے باہر قطاریں لگ گئی تھیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے بحران کے بعد فیصلہ کیا کہ اس کی تحقیقات کی جائیں اور اس کی ذمے داری ایف آئی اے کو دی گئی جنہوں نے ایک رپورٹ تیار کی جو چند ماہ قبل کابینہ کو پیش کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ رپورٹ پر فیصلہ کیا گیا کہ کابینہ کی کمیٹی بنائی جائے گی جو اس رپورٹ کا مطالعہ کرے گی اور پھر اپنی سفارشات مرتب کر کے وزیر اعظم کو دے گی جس کے بعد وزیر اعظم اور کابینہ اس پر فیصلہ کریں گے۔اسد عمر نے بتایا کہ اس کمیٹی میں شفقت محمود، شیریں مزاری، اعظم سواتی اور میں شامل تھا، ہم نے اپنا کام کرنے کے بعد اپنی سفارشات مرتب کر کے دے دی تھیں جس کے بعد وزیر اعظم نے احکامات دیے تھے کہ مزید کچھ معلومات دی جائیں اور ان کے اکٹھا ہونے کے بعد منظوری دے دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن شعبوں کو دیکھنے کے لیے کہا گیا ہے ان کے تحت قانون کے مطابق کم سے کم انوینٹری رکھنے کی جو ضرورت ہے، کیا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اسے پورا کیا؟ جو سیلز رپورٹ کی گئیں، کیا واقعی وہ سیلز ہوئیں یا حقیقت میں جو سیلز ہوئیں اور جو کاغذ پر دکھائی گئیں، ان میں فرق تھا، اگر فرق تھا تو کتنا تھا اور کس نے مجرمانہ فعل کیا۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کیا پراڈکٹ کی ذخیرہ اندوزی کی گئی اور اگر کی تو کس نے کی؟۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں ایک یہ بھی الزام ہے کہ تیل کا جہاز آ گیا، وہ لنگز انداز ہو چکا ہے اور اس کو جان بوجھ کر برتھ نہیں کیا جا رہا تاکہ تاخیر کے ساتھ اس کی برتھ کی جا سکے اور جب نئی اور زیادہ قیمت کا اطلاق ہو تو پھر اس کی برتھ کی جائے اور اگر ایسا کیا گیا تو یہ ایک غیرقانونی فعل ہے لہٰذا اس کی بھی نشاندہی کرنی ہے کہ کس کے خلاف یہ کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہاکہ تیل کی غیرقانونی فروخت میں جو بھی ملوث اس کا بھی اس رپورٹ میں احاطہ کیا گیا ہے اور اس کا بھی فارنزک کیا جائے اور مجرمانہ فعل کا پتہ لگانے کے بعد پوری طاقت کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ہتھکڑیاں لگائی جائیں اور وہ جیل میں جائیں۔

اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم نے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ڈویژن ندیم بابر کو عہدے سے استعفیٰ دینے کی ہدایت دیتے ہوئے وزارت پیٹرولیم کو تمام انتظامی فیصلے کر کے رپورٹ کرنے کا کہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے شفقت محمود نے کہا کہ ندیم بابر اور سیکرٹری پٹرولیم کو ہٹانے کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ وہ اس میں ملوث ہیں انہیں اس لیے ہٹایا گیا ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے انکوائری پر اثر انداز نہ ہوں اور انکوائری کو شفاف بنایا جا سکے۔