تازہ ترین
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان سےپارٹی کی اہم سیاسی قیادت کی ملاقات
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی سیاسی قیادت سےمشاورت کےبعداہم فیصلوں کی منظوری
  • بریکنگ :- بیوروکریسی کےعدم تعاون کےمسئلےکےحل کی تجویز،پارٹی سفارشات منظور
  • بریکنگ :- حکومت اوربیوروکریسی کامل کرعوامی سطح پرڈلیورکرنےکامیکانزم تیار
  • بریکنگ :- صوبائی اورضلعی سطح پرکوآرڈینیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی
  • بریکنگ :- صوبائی وضلعی انتظامیہ،پارٹی عہدیداروں کوشامل کرنےکی منظوری
  • بریکنگ :- ارکان پارلیمنٹ اورٹکٹ ہولڈرزکوکمیٹیوں میں شامل کرنےکی منظوری
  • بریکنگ :- کوآرڈینیشن کمیٹیاں انتظامی امورپرمشاورت سےفیصلےکریں گی
  • بریکنگ :- حکومتی بورڈزمیں اعزازی عہدوں پرپارٹی رہنماؤں کی تقرریاں ہوں گی
  • بریکنگ :- لاہور:میرٹ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- پارٹی رہنماؤں نےبیوروکریسی کےعدم تعاون سےمتعلق آگاہ کیا
  • بریکنگ :- ہمیں ڈلیورکرناہےہرعہدیدارکوکارکردگی دکھاناہوگی،وزیراعظم

کورونا کی بگڑتی صورتحال، سندھ کے تمام سکول 6 اپریل سے بند ہو جائیں گے

Published On 04 April,2021 04:21 pm

کراچی: (دنیا نیوز) صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم نے پندرہ دن کے لیے آٹھویں جماعت تک فزیکل کلاسز معطل کر دی ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویبس سائٹ ٹویٹر پر سعید غنی نے اس حوالے سے محکمہ تعلیم کا نوٹیفیکیشن بھی شیئر کیا۔ اس کے مطابق 6 اپریل سے اگلے پندرہ روز کیلئے تمام سرکاری اور پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں کلاسیں معطل رہیں گی۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق بچوں کی تعلیم آن لائن، ہوم ورک اور دیگر ذرائع سے جاری رکھی جا سکتی ہے۔ کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کورونا کی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا کی تیسری لہر: سندھ میں سکولوں کو 15 دن کیلئے بند کرنے کی تجویز

خیال رہے کہ جچھ روز قبل محکمہ تعلیم سندھ کی سٹیرنگ کمیٹی کے ممبران نے سکولوں کو پندرہ دن کے لیے بند کرنے کی تجویز دی جس کی کچھ ممبران نے مخالفت کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ آٹھویں جماعت تک سکولوں کو بند کر دیا جائے جبکہ میٹرک کلاسز جاری رکھی جائیں۔

زیادہ تر ممبران کی اکثریت نے آٹھویں جماعت تک سکول بند کرنے کی حمایت کی تھی۔ پرائیویٹ سکولز کے نمائندوں نے اعتراض کیا کہ مارکیٹیں کھلی ہیں تو سکول کیوں بند کیے جائیں۔ وزیر تعلیم سعید غنی نے اجلاس میں بتایا کہ کمیٹی میں سامنے آنے والی تجاویز کو این سی او سی میں پیش کیا جائے گا۔