تازہ ترین
  • بریکنگ :- پاکستان میں کرپشن مزیدبڑھ گئی،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- پاکستان کرپشن رینکنگ میں 16 درجےاوپرچلاگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پاکستان دنیامیں 140ویں نمبرپرآگیا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل
  • بریکنگ :- ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے 180ممالک کاکرپشن پرسیپشن انڈیکس جاری کردیا
  • بریکنگ :- 2020میں پاکستان کانمبردنیامیں 124واں تھا،ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل

پی ڈی ایم کا صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران بھرپور احتجاج کا اعلان

Published On 28 August,2021 04:33 pm

کراچی: (دنیا نیوز) حکومت مخالف تحریک کے لیے پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے ایک مرتبہ پھر کمر کس لی، تبدیلی سرکار کی 3 سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کیا جائے گا، اپوزیشن اتحاد نے ملک بھر میں جلسوں کا بھی فیصلہ کیا ہے جبکہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مسترد کر دیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ صدر کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اتوار کو کراچی میں حکومت کیخلاف جلسہ کرنا ہے، جس کے لیے پی ڈی ایم کی قیادت شہر قائد پہنچ چکی ہے۔

پی ڈی ایم کا اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کے دوران مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، ساجد میر، اویس نورانی، آفتاب شیر پاوَ، محمد زبیر اور دیگر بھی اجلاس میں شریک تھے ۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف، قائد ن لیگ اور سینیٹر اسحق ڈار نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے دوران ملکی سیاسی صورت حال اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرے گی۔

اجلاس کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں نے ہوٹل میں زبردستی داخل ہونے کی کوشش کی اس دوران دھکم پیل ہوئی جس کے باعث دروازہ ٹوٹ گیا جس کے بعد انتظامیہ نے متواتوں کو ہوٹل سے باہر نکال دیا۔ 

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم نے بڑھتی مہنگائی پر حیرت کا اظہار کیا ہے، پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں نےاجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں بدامنی کےحوالےسےتحفظات کااظہارکیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم غریب قوم کی آواز بنیں گے، پی ڈی ایم اجلاس میں بیروزگاری کو ظلم قرار دیا گیا۔ حکومتی تین سالہ کارکردگی پر عوام کو صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ اپنا بنیادی منشور سمجھتے ہوئے سندھ کے حقوق پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سندھ کے مسائل کو بھی اجاگر کریں گے۔ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، پیپلز پارٹی کے مسئلے کو دوبارہ بحث میں نہ لائیں۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دھاندلی کی پیداوار حکومت کو انتخابی اصلاحات کی اجازت نہیں دیں گے۔ اصلاحات کے نام پر غیر قانونی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔ پوری دنیا نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو مستردکیا۔

امیر جمعیت علمائے اسلام ف کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نےبھی ای وی ایم کومستردکردیا۔ آرٹی ایس کی طرح مشینیں الیکشن چوری کاطریقہ ہیں۔ پی ڈی ایم نےملک بھرمیں جلسےکرنے کا فیصلہ کیا ہے، ملک بھرمیں روڈ کارواں چلائیں گے۔ کراچی میں فیکٹری میں المناک واقعہ ہوا۔ کراچی اور زیارت دھماکے پر اظہار افسوس کیا گیا۔ ملک میں غیراعلانیہ مارشل لاہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پی ڈی ایم اجلاس کے بعد کارواں آگے بڑھے گا۔ شیخ رشید کی بات کا جواب نہیں دوں گا۔

صحافی کی طرف سے پوچھا گیا کہ مریم نواز کل آئیں گی یا نہیں؟ سوال پر شہباز شریف جواب دیئے بغیر چل پڑے۔

اس سے قبل کراچی میں موجود پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف نے صحافی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ یقینی طور پر شہر قائد میں ہونے والا جلسہ کامیاب ہو گیا۔

اسی دوران ایک اور صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ پیپلز پارٹی سے رابطہ کریں گے؟ جس پر جواب دیتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ جیسا آپ کہیں گے ویسا کرینگے۔