تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 17 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 28 ہزار 269 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 44 ہزار 831 کوروناٹیسٹ کیےگئے،این سی اوسی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 720 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 1.60 فیصدرہی،این سی اوسی

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے یو این ہائی کمشنر برائے پناہ گزین کی ملاقات

Published On 16 September,2021 09:28 pm

راولپنڈی: (دنیا نیوز) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلپو گرانڈی نے ملاقات کی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سےجاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار جنرل قمرجاوید باجوہ سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلپو گرانڈی نے راولپنڈی کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں ملاقات کی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر غور کیا گیا۔ ملاقات میں افغانستان کی موجودہ صورتحال، افغان عوام کی امداد کے امور بھی زیر غور آئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں انسانی المیہ سے بچنے کے لیے عالمی کوششیں کرنے پر زور دیا جبکہ بحران میں جوابی اقدامات کرنے پر ہائی کمشنر کے کردار کو سراہا۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلپو گرانڈی نے 4 دہائیوں سے 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی مہمان داری اور افغان صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ تعاون میں مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم کیا۔

اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد سے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلپو گرانڈی نے ملاقات کی، ملاقات میں افغانستان سے انخلا اورافغان شہریوں کے لئے انسانی امداد سے متعلق بات چیت کی۔

ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا کہ افغان شہریوں کو موجودہ حالات میں تنہا نہیں چھوڑا جائیگا- انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کے لئے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیا کا بندوبست کیا جائے گا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمسایہ ملک افغانستان میں پائیدار امن کا خواہشمندمند ہے، طالبان کو حکومت سازی اور ملکی امور چلانے میں وقت دینا چاہئے، دنیا کو افغانستان میں زمینی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے، طالبان کو افغانستان میں گورننس کے لئے مالی اور انسانی وسائل یقینی بنانا ہوں گے۔ طالبان کے زیر حکومت افغانستان کی ایک ہی دن میں یورپ کی طرح ترقی ممکن نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین افغانستان میں ممکنہ انسانی قحط بدامنی ،اور لاقانونیت کو جنم دے سکتا ہے، انسانی ہمدردی کے تحت خوراک اور ادویات کے ٹرک اور جہاز افغانستان بھیجے ہیں، موجودہ حالات میں پاکستان افغان شہریوں کی انسانی ہمدری کی بنیاد پر امداد جاری رکھے گا، حالیہ تناظر میں پاکستان میں نہ کوئی افغان مہاجر ہے نہ ہی مہاجر کیمپ، افغانستان سے غیر ملکی اور افغان شہریوں کو نکالنے کے لئے سہولت مرکز 24 گھنٹے کام کررہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کا 30 لاکھ افغان مہاجرین کی مسلسل دیکھ بھال میں کردار قابل رشک ہے، اقوام متحدہ افغان شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا،ان کی ہر ممکن مدد کریں گے، افغانستان کے لئے فنڈز اورامداد کےلئے اقوام عالم کو متحرک کیا ہے- یو این عملے کی سکیورٹی اور ویزہ سہولیات فراہم کرنے پر حکومت پاکستان کے مشکور ہیں۔