تازہ ترین
  • بریکنگ :- ملتان سلطانز نےلاہورقلندرزکو شکست دےدی
  • بریکنگ :- ملتان سلطانز نے لاہورقلندرزکو 5 وکٹوں سےہرادیا
  • بریکنگ :- ملتان سلطانز نے 207 رنز کا ہدف آخری اوور میں حاصل کیا

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو کوئی ایمنسٹی نہیں دی جارہی: مشیر قومی سلامتی

Published On 18 November,2021 10:59 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو کوئی ایمنسٹی نہیں دی جارہی۔

 صحافیوں کیساتھ غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی نے کہا کہ افغانستان میں موجود کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو پہلے بھارت مکمل سپورٹ کررہا تھا، اب ان کی سپورٹ نکل گئی ہے، اب ان کی بنیادی لائف لائن نہیں ہے، اس وقت کالعدم تنظیم کی اکثریت ہتھیار ڈالنے کو تیار ہے، وہ قانون کو مانیں، اور ہتھیار ڈالنے کے ساتھ قومی دھارے میں آ جائیں، افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کو داعش اور دیگر استعمال کرسکتے ہیں، ٹی ٹی پی کو کوئی ایمنسٹی نہیں دی جارہی، سارا پراسیس پر وقت لگے گا۔

امریکا کو بیسز دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے معاملات ریاست کی سطح پر دیکھنا ہوں گے، عمران خان واضح کر چکے ہیں پاکستان برائے فروخت نہیں، ہمارے ساتھ بیٹھیں اور بات کریں، اب بیسز ایسے نہیں دی جاسکتیں، امریکا کے ساتھ اور ہمارا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

مشیر برائے قومی سلامتی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی اور ہٹلر میں کوئی فرق نہیں، روز بھارت میں مسلمان مر رہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے سب سے بڑے محاصرے میں بے گناہ کشمیریوں کو مارا جا رہا ہے ۔

افغانستان کے معاملہ پر کسی کو اتنی بڑی تبدیلی کا اندازہ نہیں تھا، انسانی معاملات پر کوئی سیاست نہیں، موسم سرما میں افغانستان میں بدترین صورتحال پیدا ہوجائے گی، افغانستان میں انسانی بنیادوں پر اعانت کو پابندیوں سے الگ کردیا گیا ہے، افغانستان میں معاشی اعانت اور استعداد کار میں اضافہ اہم ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا مالی اعانت اور طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں، امریکا افغان حکومت کا پیسہ غیر منجمند کرنے کو تیار نہیں، پاکستان پر تنقید کی جارہی ہے کہ آپ افغانستان کے ترجمان بنے ہوئے ہیں، جس دن افغانستان میں بحران کی شدت بڑھی، اس دن پاکستان میں مہاجرین آجائیں گے، افغان مہاجرین کے آنے سے پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال خراب ہوجائے گی ہمیں ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا کہ افغانستان میں استحکام آجائے۔