تازہ ترین
  • بریکنگ :- امام حسینؓ کی عظیم قربانی تاریخ عالم کادرخشاں باب ہے،وزیراعلیٰ پنجاب
  • بریکنگ :- شہداکی قربانی رہتی دنیاتک مظلوم قوموں کوحوصلہ دیتی رہےگی،پرویزالہٰی
  • بریکنگ :- شہدائےکربلاکی لازوال قربانیاں سب کیلئےمشعل راہ ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب
  • بریکنگ :- یوم عاشورہمیں حق کی راہ میں عزیزترین رشتوں کی قربانی کادرس دیتاہے،فیاض چوہان
  • بریکنگ :- امام حسینؓ نےیزیدسےٹکراقتدارکیلئےنہیں لی تھی،فیاض الحسن چوہان
  • بریکنگ :- عظیم ترین قربانی حق وباطل کافرق واضح کرنےکیلئےتھی،فیاض چوہان
  • بریکنگ :- یوم عاشورامام حسینؓ کی لازوال قربانی اورشہادت کادن ہے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- نواسہ رسولؐ کی شہادت تاریخ اسلام کاالمناک ترین باب ہے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- ظالمانہ حکومت کیخلاف صدائےاحتجاج شہادت امام کادرس ہے،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- کربلامیں امام حسینؓ اوران کارفقانےجرات کی تاریخ رقم کی،حمزہ شہباز
  • بریکنگ :- یوم عاشورشہدائےکربلاکی عظیم قربانیوں کی یاددلاتاہے،ہاشم ڈوگر
  • بریکنگ :- یوم عاشوربھائی چارےاورامن واتحادکاپیکرہے،وزیرداخلہ پنجاب
  • بریکنگ :- واقعہ کربلاظلم کیخلاف ڈٹ جانےکاسبق دیتاہے،وزیرداخلہ پنجاب
  • بریکنگ :- واقعہ کربلاامت مسلمہ کیلئےمشعل راہ ہے،وزیرداخلہ پنجاب

بی این پی مینگل بھی شہباز حکومت سے ناراض، وفاقی کابینہ کا حصہ بننے سے انکار

Published On 19 April,2022 08:41 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل بھی شہباز حکومت سے ناراض ہوگئے اور وفاقی کابینہ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ اختر مینگل نے مدعو کیے جانے کے باوجود تقریب میں شرکت نہیں کی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل نے وفاقی کابینہ میں شمولیت سے قبل اہم شرائط رکھ دیں۔ اختر مینگل نے شکوہ کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی یقین دہانی کے باوجود چاغی واقعہ پر جوڈیشل کمیشن نہیں بن سکا، جب تک بلوچستان میں پرتشدد واقعات کی تحقیقات کیلئے کمیشن نہیں بنتا وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے وزارتیں نہیں بلوچستان کے مفادات عزیز ہیں۔

 ادھر وزیراعظم شہباز شریف کی 34 رکنی کابینہ نے حلف اٹھالیا۔ صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی کی بیماری کے باعث چیئرمین سینیٹ اور قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے نئی کابینہ سے حلف لیا۔ نون لیگ کے 13 وفاقی وزراء، 2 وزیر مملکت اور 1 مشیر کابینہ کا حصہ جبکہ پیپلزپارٹی کے 9 وفاقی وزیر، 2 وزیر مملکت اور ایک مشیر کابینہ میں شامل ہیں۔

جے یو آئی ف کے 4 وفاقی وزیر، ایم کیو ایم کے 2 وفاقی وزیر، بلوچستان عوامی پارٹی، جمہوری وطن پارٹی اور ق لیگ کا ایک ایک وفاقی وزیر کابینہ میں شامل ہے، ایک مشیر کا عہدہ کا جہانگیر خان ترین گروپ کے عون عباس چوہدری کو دیا گیا ہے۔

رانا ثناءاللہ کو وزارت داخلہ، مریم اورنگریب کو اطلاعات، مفتاح اسماعیل کو خزانہ، احسن اقبال کو منصوبہ بندی اور اعظم نذیر تارڑ کو وزارت قانون کا قلمدان دیا گیا ہے۔ شاہ زین بگٹی کو وفاقی وزیر برائے انسداد منشیات، امین الحق کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، طلحہ محمود سفیران، مفتی عبالشکور کو مذہبی امور، مولانا عبدالواسع کو ہاوسنگ اور مفتی اسعد محمود کو وفاقی وزیر برائے مواصلات تعینات کر دیا گیا ہے۔

ایاز صادق کو اقتصادی امور، خواجہ آصف کو توانائی، خورشید شاہ کو آبی وسائل، نوید قمر کو تجارت، عبدالقادر پٹیل کو وزیر برائے ہیلتھ ریگولیشن، شازیہ مری کو وزیر بے نظیر انکم سپورٹ، مرتضیٰ محمود کو وزیر صنعت، شیری رحمان کو موسمیاتی تبدیلی، ساجد طوری کو اوورسیز پاکستانی، عباد بھائیو کو نجکاری، احسان مزاری کو بین الصوبائی روابط کا قلمدان دیا جائے گا۔ حنا ربانی کھر کو وزیر مملکت برائے خارجہ اور قمر زمان کائرہ کو مشیر برائے امور کشمیر بنائے جانے کا امکان ہے۔