آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی: آئینی بنچ

Published On 27 February,2025 12:47 pm

اسلام آباد: (دنیا نیوز) فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔

سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ کر رہا ہے۔

سماعت کے آغاز پر سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کمانڈنگ افسرز نے ملزمان کی حوالگی کے لیے درخواستیں دیں، درخواستوں کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوا کہ ابتدائی تفتیش میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کا جرم بنتا ہے، درخواست کے یہ الفاظ اعتراف ہیں کہ تفتیش مکمل نہیں ہوئی تھی، ملزمان کی حوالگی کے لیے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی وجوہات مضحکہ خیز ہیں، انسداد دہشت گردی کی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج نے ملزمان کی حوالگی کے احکامات دیئے، عدالت نے ملزمان کو تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی قصور وار لکھ دیا۔

لگتا انسداد دہشتگردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں: جسٹس مندوخیل

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ راولپنڈی اور لاہور کی عدالتوں کے حکم ناموں کے الفاظ بالکل ایک جیسے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کا حکم عدالت دے سکتی ہے ایڈمنسٹریٹو جج نہیں، آرمی ایکٹ سیکشن 59 (1) کے تحت فوجی افسران کی قتل و دیگر جرائم میں سول عدالت سے کسٹڈی لی جا سکتی ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ میرے حساب سے تو 59 (4) کا اطلاق بھی ان پر ہی ہوتا ہے جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ جن مقدمات میں حوالگی کی درخواستیں دی گئیں ان میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات نہیں تھیں، جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل سے کہا کہ ایک ایف آئی آر میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات بھی عائد تھیں جس پر وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ وہ ایف آئی آر مجھے ریکارڈ میں نظر نہیں آئی۔

سماعت میں مختصر وقفہ

بعدازاں سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت میں مختصر وقفہ کر دیا گیا۔

وقفے کے بعد دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل فیصل صدیقی سے کہا کہ حوالگی والی ایف آئی آر پڑھیں اس میں الزام فوجی تنصیب کے باہر توڑ پھوڑ کا ہے۔

احمد فراز کیس کے عدالتی فیصلے کا حوالہ
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالتیں اسی لیے ہوتی ہیں کہ قانون کا غلط استعمال روکا جا سکے، احمد فراز کو شاعری کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا، عدالت نے ریلیف دیا تھا، ان پر الزام تھا کہ شاعری کے ذریعے آرمی افسر کو اکسایا گیا، احمد فراز اور فیض احمد فیض کے ڈاکٹر میرے والد تھے، مجھ پر بھی اکسانے کا الزام لگا لیکن میں گرفتار نہیں ہوا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ہلکے پھلکے انداز میں وکیل کو کہا کہ آپ کو اب گرفتار کرا دیتے ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ آپ ججز کے ہوتے ہوئے مجھے کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔

جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سے کہا کہ احمد فراز کی کونسی نظم پر کیس بنا تھا؟ مجھے تو ساری یاد ہیں، بطور وکیل کیس ہارنے کے بعد میں بار میں بہت شور کرتی تھی، کہتی تھی ججز نے ٹرک ڈرائیورز کی طرح اشارہ کہیں کا دیا اور گئے کہیں اور، میری بات کو گہرائی میں سمجھنے کی کوشش کریں۔

جسٹس حسن اظہر رضوی نے جسٹس مسرت ہلالی سے کہا کہ کیا آپ بھی ٹرک چلاتی ہیں؟

جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ ٹرک تو میں چلا سکتی ہوں، میرے والد ایک فریڈم فائٹر تھے، ان کی ساری عمر جیلوں میں ہی گزری، میرے والد کی شاعری ان کی وفات کے بعد ایک پشتون جرگے میں کسی نے پڑھی تھی، وہاں میرے والد کی شاعری پڑھنے والا گرفتار ہو گیا تھا، شاعری پڑھنے والے نے بتایا کہ کس کا کلام ہے اور اس کی بیٹی آج کون ہے، میرے والد کی شاعری پڑھنے والے کو بہت مشکل سے رہائی ملی۔

اب تو چرسی تکہ والے کو بھی اصلی چرسی تکہ لکھنا پڑتا ہے: جسٹس مسرت
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ وقت کے حساب سے شاعری اچھی بری لگتی رہتی ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اب تو چرسی تکہ والے کو بھی اصلی چرسی تکہ لکھنا پڑتا ہے۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مجھے آپ تمام ججز سے اچھے کی امید ہے جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھنے والے ہیں۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کچھ کہنا چاہتا ہوں، شاعر احمد فراز نے تو عدالت میں یہ کہہ دیا تھا کہ یہ نظم میری ہے ہی نہیں، جسٹس افضل ظلہ نے کہا آپ کوئی ایسی نظم لکھ دیں کہ فوجی کے جذبات کی ترجمانی ہو جائے، احمد فراز نے اپنے دفاع میں کہا تھا کہ وسائل ہی نہیں کہ اپنی نظم کی تشہیر کر سکوں، آج کل تو سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اس دور میں اگر احمد فراز ہوتے تو وہ یہ دفاع نہیں لے سکتے تھے۔

وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اب جسٹس مسرت ہلالی نے بتا دیا ہے وہ فریڈم فائٹر کی بیٹی ہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میں خود بھی ایک فائٹر ہوں، وکیل فیصل صدیقی نے جسٹس مسرت ہلالی سے کہا کہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے، وکلاء تحریک میں آپ کا کردار یاد ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل سے کہا کہ آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دے رہے ہیں، اگر آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہوئیں تو آپ کے دلائل غیر متعلقہ ہو جائیں گے۔

جسٹس امین الدین نے وکیل سے کہا کہ آپ بہت سی چیزوں کو مکس کر گئے ہیں، وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ میں عدالت کے سامنے ایک مینیو رکھ رہا ہوں، مینیو میں مختلف آپشن ہیں، عدالت کوئی بھی لے سکتی ہے، مجھے تو ریلیف چاہیے وہ کسی بھی طرح ملے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ مینیو وہ والا رکھیں جو عملاً ممکن بھی ہو، جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سے کہا کہ آج بارش ہو رہی ہے، مینیو اس کے حساب سے ہی رکھیں۔

سماعت ملتوی
بعدازاں سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے ملٹری کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔