خلاصہ
- کراچی: (دنیا نیوز) کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے مل گئی ہے۔
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی پر اتوار کی رات خریداری کے لیے آئی فیملی کا تین سالہ بچہ نبیل ایک ڈپارٹمنٹل سٹور کے باہر رات گیارہ بجے کھلے مین ہول (گٹر) میں گر گیا تھا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق ریسکیو آپریشن فوری شروع کیا گیا تھا، ڈائیونگ آلات کی عدم موجودگی کے باعث آپریشن دو گھنٹے کے لیے رک بھی گیا تھا جسے دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسان خان نے بتایا تھا کہ ساڑھے گیارہ گھنٹے بلاتعطل ریسکیو آپریشن جاری رکھنے کے بعد اسے عارضی طور پر روک دیا گیا کیونکہ جب تک متعلقہ ادارے جائے وقوعہ پر نہیں پہنچتے آپریشن دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکتا تھا۔
’ان کا کہنا تھا کہ اتنے سنجیدہ واقعہ کی ذمہ داری کوئی قبول نہیں کر رہا تھا، کوئی انڈر واٹر ڈائی گرام موجود نہیں تو ہم جگہ جگہ کھدائی بھی نہیں کر سکتے تھے، تاہم ریسکیو ٹیم جائے وقوعہ پر موجود تھی جس نے بچے کی دوبارہ تلاش شروع کر دی تھی۔
ریسکیو حکام نے بتایا کہ رات سے پانچ مقامات پر کھدائی کر کے بچے کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی، متعلقہ محکموں کی عدم موجودگی کے باعث سرچ آپریشن میں مشکلات کا سامنا رہا، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور کے ایم سی کا عملہ بہت دیر کے بعد جائے حادثہ پر پہنچا۔
قبل ازیں ریسکیو حکام نے بتایا تھا کہ ان کے پاس کھدائی کے لیے مشینری نہیں، کسی ادارے کی طرف سے مشینری نہیں ملی، کسی بھی سرکاری ادارے کا افسر اس وقت موجود نہیں ہے، شروع میں کام کرنے والی مشینری بھی چلی گئی۔
ذرائع کے مطابق رات گئے ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد لوگوں نے اپنی مدد آپ کےتحت ہیوی مشینری منگوائی، جائے وقوعہ پر ہیوی مشینری کے ذریعے کھدائی جاری رہی۔
بچے کے والد کا کہناہےکہ شاپنگ کرکے نکلے تو بیٹا ہاتھ چھڑا کربھاگا، موٹر سائیکل مین ہول کے قریب پارک تھی، بیٹا آنکھوں کےسامنےگٹرمیں گرا، مین ہول پرڈھکنا نہیں تھا۔
بچے کے دادا محمود الحسن نے بتایا کہ بچے کا والد موٹرسائیکل کھڑی کر رہا تھا، بچہ والد کے پیچھےآیا تو کھلےہوئے مین ہول میں گرگیا۔
انہوں کا کہنا تھا کہ ابراہیم والدین کا اکلوتا بیٹا ہے، ریسکیو کے کام سےمطمئن نہیں، انہوں نے مزید مشینری بھیجنے اور تلاش کا کام تیز کرنے کا مطالبہ کردیا، لاپتا بچے کی ماں کی حالت غیر ہوگئی۔
شہریوں اور متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ’شہر میں بلدیاتی ادارے اگر اپنا کام ذمہ داری سے انجام دیتے تو یہ سانحہ کبھی پیش نہ آتا۔‘
شہریوں کا احتجاج
دوسری جانب نیپا چورنگی پر شہریوں نے احتجاج کیا اور ٹائر جلا کر سڑک بلاک کردی۔
مشتعل افراد نے نیپا چورنگی سے حسن سکوائر جانے والی سڑک بند کردی، نیپا سےجامعہ کراچی اور گلشن چورنگی جانے والی سڑک بھی بند کردی گئی، مشتعل افراد کی جانب سے پتھراؤ بھی کیا گیا، میڈیا پر بھی حملہ کیا گیا، نجی چینلز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔
مشتعل افراد نے کہا کہ رات سے میڈیا موجود ہے، پھر بھی انتظامیہ یہاں کیوں نہیں پہنچی، انتظامیہ پوری رات نہیں آئی، میڈیا کا کیا فائدہ؟ دنیا نیوز کی ٹیم کو اس موقع پر یرغمال بھی بنایا گیا۔۔
سندھ حکومت کا ردعمل
دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے کہا تھا کہ انکوائری شروع کردی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا جس کی بھی غفلت ہو گی اس کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی میئرکراچی سلمان مراد نے بھی واقعہ کا نوٹس لے لیا اور کہا کہ تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا ہے، بچے کو جلد از جلد تلاش کرنےکی ہدایت کی ہے، ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی عملہ موقع پر موجود ہے، واٹر کارپوریشن اور سندھ سالٹ ویسٹ کا عملہ بھی موجود ہے۔
خیال رہے کہ رواں سال شہر قائد میں 24 افراد کھلے مین ہول اور نالوں کی نذر ہو کر جان کی بازی ہار گئے، جاں بحق ہونے والوں میں 19 مرد اور 5 بچے شامل ہیں۔