پشاور: (دنیا نیوز) خیبرپختونخوا کے ایک حالیہ سروے رپورٹ میں چائلڈ لیبر کی شرح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس میں 17 سال تک کی عمر کے 9 فیصد بچے مشقت پر مجبور ہیں۔
سروے کے مطابق صوبے میں چائلڈ لیبر سے وابستہ بچوں میں سے 73.8 فیصد بچے سخت ترین قسم کی مشقت کا شکار ہیں جو ایک سنگین سماجی مسئلے کی عکاسی کرتا ہے، بنوں ڈویژن میں چائلڈ لیبر کی شرح سب سے زیادہ 11.4 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں یہ شرح سب سے کم 3.7 فیصد ہے۔
سروے رپورٹ کے مطابق 28.5 فیصد بچے رات گئے تک مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، 16.2 فیصد بچوں کو کام کے دوران شدید گالم گلوچ اور بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، رپورٹ میں چائلڈ لیبر کی بنیادی وجوہات غربت، قدرتی آفات، معاشی بدحالی اور مہنگائی کو قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے اگر جامع پالیسی سازی کی جائے، تعلیمی اداروں کے نظام کو بہتر بنایا جائے اور باقاعدگی کے ساتھ معائنہ کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے تو اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے جبکہ حکومت اور متعلقہ اداروں پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کریں۔



