سندھ اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل، 500 سوالات کے جوابات نہ مل سکے

سندھ اسمبلی کا دوسرا پارلیمانی سال مکمل، 500 سوالات کے جوابات نہ مل سکے

سندھ اسمبلی کے دوسرے پارلیمانی سال میں 56دن ایوان کی کارروائی چلی،25 دن چھٹیاں آئیں 19 دن سندھ اسمبلی اجلاس نہیں ہوئے جبکہ پارلیمانی سال کے دوران وزیراعلیٰ نےکسی بھی محکمے سے متعلق سوالات کے جواب نہیں دیے۔

دوسرے پارلیمانی سال میں بھی سندھ اسمبلی کی چار قائمہ کمیٹیوں کےالیکشن نہیں ہوسکے تاہم الیکشن ہونے کے باوجود سندھ اسمبلی کی چار نشستیں خالی ہیں۔

سندھ اسمبلی کے پہلے دو پارلیمانی سال کے دوران 48 سرکاری مسودہ قوانین ایوان سےمنظورہوئے۔

دوسرے پارلیمانی سال میں سندھ اسمبلی میں ارکان نے مختلف محکموں سے متعلق 1096 سوالات جمع کروائے جبکہ سرکاری محکموں نے تاحال 500 سوالات کے جوابات ارسال ہی نہیں کیے گئے، پہلے دو سالوں میں جیل خانہ جات، معدنیات، سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن کے سوالات ایوان کے ایجنڈا پر نہیں آئے۔

سندھ اسمبلی میں 25 سے زائد پارلیمانی سیکرٹریز، نصف نے ایوان میں اپنے محکمے سے متعلق کسی سوال کا جواب نہیں دیا تاہم سندھ اسمبلی میں چپ کا روزہ رکھنے والے ارکان کی معقول تعداد پہلے جیسی ہی رہی۔

سندھ اسمبلی میں مختلف امور پر ارکان نے 141 تحاریک التوا جمع کرائیں جن میں سے صرف چار پر بحث ہوئی، ان دو سالوں کے دوران جمع 393 قراردادوں میں سے 35 منظور اور 305 وایپس ہوگئیں۔

دوسرے پارلیمانی سال میں سندھ اسمبلی کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کے تقریباً 49 اجلاس ہوئے جبکہ پارلیمانی سال کے آخری دو ماہ میں اختلافی وجوہ پر پی اے سی اجلاس نہیں ہوئے۔