خلاصہ
- کراچی: (دنیا نیوز) امریکی قونصل خانہ کراچی کے باہر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے 3 مقدمات سرکار کی مدعیت میں درج کر لئے گئے۔
مقدمات میں قتل، اقدام قتل دہشتگردی اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئیں، مقدمہ ڈاکس تھانے میں پولیس انسپکٹر نند لال کی مدعیت میں درج کیا گیا، مقدمے میں نو افراد کی ہلاکت اور 31 زخمیوں کا ذکر کیا گیا۔
مقدمے کے متن کے مطابق ڈیڑھ سو سے دو سو افراد وہاں موجود تھے کچھ افراد قونصل خانے میں گھس گئے۔
واضح رہے کہ برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بتایا تھا کہ امریکی میرینز نے کراچی میں قونصل خانے پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سفارتی مشن پر طاقت کے استعمال کا یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جو ایران کے رہنما کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں جاری مظاہروں کے تناظر میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، واقعہ میں 10 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
امریکی حکام نے ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ واضح نہیں کہ میرینز کی جانب سے چلائی گئی گولیاں کسی کو لگیں یا کسی کی ہلاکت کا سبب بنیں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مشن کی حفاظت پر مامور دیگر افراد، جن میں نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس شامل ہیں نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ پہلا موقع ہے جب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ میں میرینز شامل تھے جبکہ صوبائی حکومت کے ترجمان سکھ دیو اسرداس ہمنانی نے کہا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا تعلق کس ادارے سے تھا۔
یاد رہے کہ ایران کے بعد پاکستان دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی کا حامل ملک ہے، پیر کے روز ایران پر حملوں کے خلاف مظاہروں کے پھیلنے کے بعد پاکستان نے ملک بھر میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی تھیں۔