دریائے سندھ کا پانی روکنا پاکستان کے بنیادی قومی مفادات پر حملہ ہو گا: عامر ریاض

دریائے سندھ کا پانی روکنا پاکستان کے بنیادی قومی مفادات پر حملہ ہو گا: عامر ریاض

سندھ طاس معاہدے پر بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض کا کہنا تھا  کہ دریائے سندھ کا نظام دنیا کے سب سے بڑے آبپاشی نیٹ ورک کو پانی فراہم کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ پاکستان میں واقع ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سندھ طاس نظام پاکستان کی زراعت، معیشت اور توانائی کی ضروریات کا بنیادی سہارا ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی اسی نظام سے وابستہ ہے۔

سابق صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کا پانی روکنا ملک کے بنیادی قومی مفادات پر براہِ راست حملہ تصور ہوگا جب کہ بالائی دھارے میں واقع کوئی بھی ملک بین الاقوامی اصولوں کے تحت زیریں دھارے کے ملک کا پانی بند نہیں کر سکتا۔

لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے پس منظر میں ایک اہم تاریخی واقعہ اپریل 1948 کا تھا، جب بھارت نے غیرقانونی طور پر پاکستان کی جانب آنے والے مشرقی دریاؤں کا پانی روک دیا تھا، اس وقت انہی دریاؤں سے نکلنے والی نہریں پنجاب کی وسیع زرعی اراضی کو سیراب کرتی تھیں۔

اُن کامزید کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے پانی بند کیے جانے کے بعد اس تنازع پر باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا، جو تقریباً دس برس تک جاری رہے، ان مذاکرات میں بین الاقوامی ماہرین اور ورلڈ بینک نے کلیدی کردار ادا کیا جس کے نتیجے میں سندھ طاس معاہدہ طے پایا۔