خلاصہ
- اسلام آباد: (دنیا نیوز) مصنفہ اور عالمی پالیسی کی ماہر لوری اے واٹکنز نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ بین الاقوامی سفارت کاری کی حقیقی کامیابیوں میں سے ایک ہے اور کوئی بھی ریاست معاہدے کی معطلی کا اعلان کر کے اپنی عالمی قانونی ذمہ داریوں سے دستبردار نہیں ہو سکتی۔
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے لوری اے واٹکنز نے کہا کہ آج اس اہم موضوع پر اظہارِ خیال کرنا ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔
لوری اے واٹکنز نے کہا کہ اپنی گفتگو کا آغاز ایک ایسی حقیقت سے کرنا چاہتی ہیں جس سے سب واقف ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ 60 برس سے زائد عرصے تک مؤثر انداز میں کام کرتا رہا اور اسے ایک انتہائی مشکل مقصد کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دریاؤں سے متعلق معاہدے تنازعات کو روکنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ پاکستان نے دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ کے حوالے سے بھارت کو باضابطہ خطوط ارسال کیے جو محض انتظامی یا تکنیکی شکایت نہیں تھی بلکہ ایک اہم قانونی معاملہ تھا۔
لوری اے واٹکنز کا کہنا تھا کہ دنیا کے دریائی نظاموں کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نوعیت کی صورتحال خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے عالمی عدالتوں کے فیصلوں کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ ویانا کنونشن کے مطابق بین الاقوامی معاہدوں پر نیک نیتی کے ساتھ عمل کیا جانا چاہیے، مستقل انڈس کمیشن عالمی معیار کے مطابق ایک غیرمعمولی اور قابلِ قدر ادارہ ہے۔
لوری اے واٹکنز نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت مشترکہ معائنے اور تنازعات کے حل کا مرحلہ وار نظام وضع کیا گیا ہے، آبی معلومات کا تبادلہ رک جانے سے بداعتمادی، غلط اندازوں اور بالآخر کشیدگی کو جنم ملتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی آبی معاہدے کی اصل طاقت فریقین کے درمیان رابطوں کے تسلسل اور مؤثر تعاون میں مضمر ہوتی ہے۔