خلاصہ
- اسلام آباد:(دنیا نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان لیگی قیادت کی تنقید پر سخت ردعمل دیتے ہوئے انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرا دیے۔
شیری رحمان کا مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر کی جانے والی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ مبینہ دھاندلی سے حاصل کی گئی کامیابی کو عوامی مینڈیٹ قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔
اُنہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی صرف پیپلز پارٹی نہیں بلکہ میڈیا بھی کر رہا ہے، پریذائیڈنگ افسر ابھی نتائج لے کر ریٹرننگ افسر کے پاس پہنچا بھی نہیں تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان پہلے ہی کر دیا گیا۔
نائب صدر پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرنے والوں کو پہلے اپنی سیاسی قیادت کے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔
شیری رحمان نے کہا کہ میاں نواز شریف متعدد بار اقتدار میں رہنے کے باوجود سیاسی برداشت کا مظاہرہ نہ کر سکے جب کہ نفرت کی سیاست کے ذریعے کشمیر کے عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن مختار یونس عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے پولنگ سٹیشن پر موجود تھے اور اگر مبینہ دھاندلی اور اسلحے کی نمائش نہ ہوتی تو وہ آج زندہ ہوتے، انہوں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے قبل فائرنگ اور تشدد کے ذریعے خوف کی فضا پیدا کی گئی۔
نائب صدر پیپلزپارٹی نے مطالبہ کیا کہ انتخابی عمل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے آ سکے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری پر بے بنیاد تنقید سے عوامی حقائق تبدیل نہیں کیے جا سکتے، عوام کے ووٹ پر شب خون مارنے والوں کو جواب دینا ہوگا اور جمہوریت کی اصل روح عوامی مینڈیٹ کا احترام ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کا تھا، ہے اور رہے گا، میرپور کی نشستیں واپس حاصل کی جائیں گی جبکہ مظفرآباد میں بھی عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے ساتھ کامیابی سمیٹی جائے گی۔