میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہ ملی تو عدالت سے رجوع کریں گے: جبران ناصر

میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہ ملی تو عدالت سے رجوع کریں گے: جبران ناصر

ذرائع کے مطابق سندھ کابینہ کا اجلاس منگل کو شیڈول ہے، جس میں میر رضا عدالتی کمیشن کی رپورٹ سے متعلق فیصلہ کیا جانا ہے، تاہم 16 اکتوبر کو جاری کیے گئے اجلاس کے ایجنڈے میں رپورٹ کا معاملہ شامل نہیں ہے۔

میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے کہا ہے کہ عدالتی کمیشن 15 اکتوبر کو اپنی رپورٹ جمع کرا چکا ہے، اب رپورٹ کو منظر عام پر لانے اور متاثرہ خاندان کو فراہم کرنے کا فیصلہ سندھ کابینہ کرے گی۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کیس میں پہلے بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا مطالبہ کیا تھا اور آج بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں، پولیس معاملے کو خودکشی کا رنگ دینے میں لگی ہوئی ہے، جبکہ عدالتی کمیشن اپنی رائے دے چکا ہے اور اس نے پولیس کو الگ صف میں کھڑا کیا ہے۔

جبران ناصر نے کہا کہ متاثرہ خاندان کے خدشات دور کرنے کے لیے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لنجار نے عدالتی کمیشن قائم کیا تھا، حکومت کو چاہیے کہ وہ خود کو پولیس کے مؤقف کے ساتھ کھڑا کرنے کے بجائے معاملے کی شفاف تحقیقات یقینی بنائے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ میر رضا قتل کیس پر عوام بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور متاثرہ والدین کے حوالے سے مختلف سکینڈل سامنے لائے جاتے ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومتی وسائل ضائع کرنے کے بجائے کیس کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے۔

جبران ناصر نے واضح کیا کہ اگر متاثرہ خاندان کو عدالتی کمیشن کی رپورٹ فراہم نہ کی گئی تو وہ اس معاملے پر عدالت سے رجوع کریں گے، اب یہ فیصلہ سندھ کابینہ نے کرنا ہے کہ رپورٹ کو عوام کے سامنے لایا جائے یا نہیں اور اسے متاثرہ خاندان کے حوالے کیا جائے یا نہیں۔

واضح رہے کہ کراچی کا نوجوان میر رضا علی خان 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے لاپتہ ہوا تھا، وہ صبح 4 بج کر 9 منٹ پر آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گھر سے روانہ ہوا تھا، جس کی لاش 2 روز بعد گلستانِ جوہر سے ملی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بہت بری حالت میں ملی تھی، اس کے سینے میں گولی لگی تھی، لاش ملنے سے ایک روز قبل اس کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دیے گئے تھے۔